نصاب میں تمباکو نوشی سے متعلق مضمون شامل کیا جائے مقررین

تعلیمی اداروں کے باہر اور قرب و جوار میں سگریٹ فروخت کرنیوالے کیبن اور پتھارے فوری ختم کرنے کا مطالبہ


Numainda Express December 11, 2012
فرزانہ رحمان نے تمباکونوشی کے صحت پر مضر اثرات کے حوالے سے ایک ٹیلی بریفنگ بھی دی. فوٹو: فائل

تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو بچانے کے لیے تعلیمی نصاب میں تمباکو نوشی سے متعلق مضمون شامل کیا جائے اور تعلیمی اداروں کے باہر اور قرب و جوار میں موجود سگریٹ فروخت کرنے والے کیبن اور پتھارے فوری ختم کیے جائیں۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے آل پاکستان ویمن ایسوسی ایشن کے تحت اپوا کے صوبائی ہیڈ کوارٹر حیدرآباد میں ''تمباکو نوشی مضر صحت'' کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں کیا جس کا مقصد خواتین کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کرنا تھا۔ تقریب سے سابق حق پرست ایم این اے سید طیب حسین، اپوا کی نائب صدر فرزانہ رحمان، سندھ کی چیئر پرسن الماس ظفر، جنرل سیکریٹری ثوبیہ عمران، مہر سلطانہ زیدی، ڈاکٹرسعدیہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ تمباکو نوشی خواہ کسی بھی شکل میں ہو اس کو مستقل استعمال کرنے والا فرد کینسر سمیت دیگرمہلک امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے جبکہ خواتین کے چہرے پر جھریاں پڑ جاتی ہیں اور ایسی خواتین نا مکمل بچوں کو جنم دیتی ہیں اور بعض اوقات تمباکو نوشی کرنے والا کسی مہلک مرض میں مبتلا ہو کر اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

1

مقررین نے اس بات پر افسوس کااظہار کیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر چند سال قبل ایک قانون منظور کیا گیا تھا جس کے تحت پبلک مقامات پر تمباکو نوشی پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، اگر حکومت کو صحت مند پاکستان چاہیے تو وہ پھر تمباکو سے بنی اشیاء پر پابندی لگائے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔ تقریب کے دوران فرزانہ رحمان نے تمباکونوشی کے صحت پر مضر اثرات کے حوالے سے ایک ٹیلی بریفنگ بھی دی اور بتایا کہ اگر کوئی شخص تمباکو نوشی سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے ملیٹھی کا استعمال کرایا جائے جس کے نتیجے میں تمباکو نوشی کرنے والا شخص کچھ عرصے میںاس عادت سے چھٹکارا پا لیتا ہے اور اس حوالے سے کراچی میں کیے جانے والے تجربات کامیاب رہے ہیں۔