روزیٹا خلائی جہاز 12 سال کے بعد دمدار ستارے پر پہنچ گیا

روزیٹا نے اپنے مشن کے اختتام پر 67 پی شوریومو دمدار ستارے پر ایک چھوٹا تحقیقی جہاز اتارا۔


ویب ڈیسک October 04, 2016
روزیٹا خلائی جہاز کے چھوٹے تفتیشے فلی نے پی 67 کی سطح پر درجن سے زائد نامیاتی مرکبات دریافت کئے ہیں۔ تصویر میں روزیٹا سے الگ ہوکر فلی دمدار ستارے پر اتر رہا ہے۔ فوٹو: یورپی خلائی ایجنسی کا تصوراتی پورٹریٹ

FAISALABAD: یورپی خلائی ایجنسی کا تیار کردہ روزیٹا خلائی جہاز 12 سال کے طویل سفر کے بعد ایک دلچسپ دمدار ستارے پر پہنچ گیا ہے جہاں اس نے ایک چھوٹا تحقیقی جہاز اتارا ہے۔

2004 میں یورپی خلائی ایجنسی ( ای ایس اے) نے 67 پی شوریومو کی جانب اپنا تحقیقی خلائی جہاز روانہ کیا تھا جو اپنا مشن مکمل کرچکا ہے۔ اس نے مشن کے آخری مرحلے میں فلی نامی ایک چھوٹا خلائی جہاز دمدار ستارے کی سطح پر اتارا ہے جس سے قابلِ قدر معلومات ملی ہیں۔ یہ دمدار ستارہ زمین سے 50 کروڑ کلومیٹر دور موجود ہے۔



اس سے قبل روزیٹا نے اپنے سفر میں ہمارے نظامِ شمسی کے بارے میں کئی اہم انکشافات کیے تھے اور دمدار ستارے پر اترتے ہوئے اس کی آخری تصاویر بھی بھیجی ہیں۔ اس پورے منصوبے کو ایئر بس کمپنی نے ڈیزائن کیا تھا جسے یورپی ہونین ، ناسا اور دیگر اداروں کی معاونت حاصل تھی۔



شوریومو دمدار ستارے پر اترتے ہوئے بھی روزیٹا نے اس کی بہترین تصاویر معلومات زمین تک بھیجیں جن پر مہینوں غور ہوتا رہے گا۔ یہ دمدار ستارا ہمارے نظامِ شمسی میں اس وقت بنا تھا جب سولر سسٹم خود بہت جوان تھا۔ اس کا چھوٹا جہاز فلی اب اس کی سطح پر اتر چکا ہے اور دمدار ستارے پر 16 نامیاتی مرکبات (کپماؤنڈز) دریافت کیے ہیں۔ یہ تحقیق اہم ہے کیونکہ ان میں سے کئی مرکبات زندگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کی ایک اکثریت کا خیال ہے کہ دمدار ستارے کے ٹکرانے سے زمین پر زندگی شروع ہوئی تھی کیونکہ اس ستارے میں زندگی کے اہم اجزا موجود تھے ۔