مبینہ فکسرز کے خلاف ’’عدالت‘‘ آج لگے گی

پی سی بی شرجیل خان اور خالد لطیف کیخلاف الزامات کی فہرست اور ثبوت ٹریبونل کو پیش کرے گا۔


Sports Reporter March 24, 2017
فیصلہ ایک ماہ میں ہونے کا امکان، جرم ثابت ہونے پر 5 سال سے تاحیات پابندی لگ سکتی ہے۔ فوٹو: فائل

مبینہ فکسرز کے خلاف عدالت جمعے کو لگے گی، پی سی بی شرجیل خان اور خالد لطیف کیخلاف الزامات کی فہرست اور ثبوت ٹریبونل کو پیش کرے گا، دونوں کرکٹرز وضاحت کیلیے کٹہرے میں موجود ہوں گے جبکہ وکلا کی مشاورت سے جواب داخل کرنے کی مہلت بھی دی جائے گی.

پاکستان سپر لیگ کا دبئی میں دوسرا ایڈیشن شروع ہوا تو پہلے میچ کے بعد ہی اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں معطل کرکے پاکستان بھجوا دیا گیا۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد دونوں کو چارج شیٹ جاری کردی گئی، کرکٹرز الزامات تسلیم کر لیتے تو پی سی بی کی ڈسپلنری کمیٹی سزائیں سنادیتی لیکن انہوں نے انکار کرتے ہوئے صرف بکی کے رابطے پر بورڈ کو مطلع نہ کرنے کی غلطی کا اقرار کیا۔ جس پر کیس کی سماعت کیلیے جسٹس (ر) اصغر حیدر سربراہی میں ایک ٹریبونل قائم کیا گیا جس کے ارکان میں سابق چیئرمین پی سی بی جنرل (ر) توقیر ضیا اور سابق کپتان و منیجر وسیم باری بھی شامل ہیں۔

پی سی بی اور دونوں کرکٹرز کو ابتدائی سماعت کیلیے پیش ہونے کے نوٹس جاری کیے گئے تھے، ٹریبونل کے ارکان کی غیر رسمی باہمی مشاورت ہوچکی، باقاعدہ کارروائی کا آغاز جمعے سے ہوگا، ٹریبونل پی سی بی کو شرجیل خان اور خالد لطیف کیخلاف الزامات اور ثبوت پیش کرنے کا حکم دے گا جبکہ کرکٹرز وضاحت پیش کریں گے۔ انہیں مقررہ وقت میں اپنے وکلا کی مشاورت سے مقررہ وقت میں جواب دینے کی اجازت بھی ہوگی، اس کے بعد کیس کی سماعت کرتے ہوئے مختلف امور کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا، اگر ٹریبونل کی نظر میں بھی کھلاڑی قصور وار قرار پائے تو سزا سنادی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس کا فیصلہ ہونے میں ایک ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ کوڈ آف کنڈکٹ کی شق2.1.1 فکسنگ میں ملوث ہونے، کسی بھی طریقے سے میچ یا اس کے نتیجے پر اثر انداز ہونے،دانستہ کم تر کارکردگی پیش کرنے والوں پر لاگو ہوتی ہے۔ 2.1.2 کے تحت کسی میچ کے دوران کوئی خاص عمل کرنے کی یقین دہانی کروانے والوں کیخلاف کارروائی ہوتی ہے، شق 2.1.3میں مقابلے کے نتائج کو کسی بھی اندازمیں متاثر کرنے کیلیے رقم قبول/ پیش کرنا یا رضامندی ہونا جیسی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ براہ راست یا بالواسطہ ساتھی کرکٹرز کو اکسانے، حوصلہ افزائی کرنے یا سہولت کار کا کردار ادا کرنے والے 2.1.4کی زد میں آتے ہیں۔ کسی بکی کے رابطے پر پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو مطلع نہ کرنے والوں پر شق 2.4.4کا اطلاق ہوتا ہے۔ 2.4.5میں کسی ساتھی کے ساتھ کرپٹ عناصر کے تعلق کا علم ہونے کے باوجود واقعہ کو چھپانے یا نامکمل معلومات فراہم کرنے پر کارروائی ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ شرجیل خان پر 5شقوں کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں جبکہ خالد لطیف 2.1.4کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب قرار دیے گئے ہیں۔ چارج شیٹ کو پیش نظر رکھتے ہوئے دونوں کرکٹرز کو 5 سال سے تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب اسی اسکینڈل کے 2 دیگر کرداروں محمد عرفان اور شاہ زیب حسن کو بھی چارج شیٹ جاری ہوچکی ہے، دونوں نے الزامات تسلیم نہ کیے تو ان کا کیس بھی ٹریبونل کے سامنے پیش ہوگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد عرفان پر فکسنگ میں براہ راست ملوث ہونے کے بجائے بکی کے رابطے پر اینٹی کرپشن یونٹ کو مطلع نہ کرنے کا الزام ہے۔ طویل قامت پیسر چارج شیٹ کو چیلنج کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، اس صورت میں ان کیخلاف ڈسپلنری کمیٹی اپنی کارروائی مکمل کرتے ہوئے سزا سنادے گی جبکہ شاہ زیب کا جواب سامنے آنے پر اگلا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب ایف آئی اے بھی اس کیس میں چاروں کرکٹرز کے بیانات ریکارڈکرچکی ہے، سہولت کاری کے ملزم پاسپورٹ انگلینڈ میں حکام کی تحویل میں ہونے کی وجہ سے تاحال پیش نہیں ہوسکے، ان کھلاڑیوں کیخلاف اگلی کارروائی میں مزید پیش رفت ہونا ہے۔