سیزفائر کی خلاف ورزی پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفتر خارجہ طلبی

بھارت اپنے فوجیوں کو جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنے کی ہدایات کرے تاکہ سرحد پر امن برقرار رہ سکے، دفتر خارجہ


ویب ڈیسک August 28, 2017
بھارت کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، دفتر خارجہ ۔ فوٹو : فائل

KARACHI: لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ پر احتجاج کرتے ہوئے پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارتی فورسز نے 27 اگست کو لائن آف کنٹرول کے راول کوٹ سیکٹر پر سیزفائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت 3 پاکستانی شہری شہید ہوئے تھے جبکہ فتح پور گاؤں میں بھارتی مارٹر حملے میں 2 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

دفتر خارجہ کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ایس اے اینڈ سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔ احتجاجی مراسلے میں بھارت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ 2003 میں طے پانے والے سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرے اور سیزفائر خلاف وریوں کے تازہ اور پرانے واقعات کی تحقیقات کرے۔ بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے فوجیوں کو جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنے کی ہدایات کرے تاکہ سرحد پر امن برقرار رہ سکے۔

یہ بھی پڑھیں: کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے 5 شہری شہید

پاکستان کی جانب سے ایک بار پھر مطالبہ کیا گیا کہ بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کے نمائندوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اپنی طرف فرائض انجام دینے کی اجازت دے۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کو باور کرایا گیا ہے کہ سرحد پر جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنانا افسوس ناک ہے جب کہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں برس اب تک لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جانب سے 600 سے زائد بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی جا چکی ہے جس کے نتیجے میں 28 عام شہری شہید اور 113 زخمی ہو چکے ہیں۔ 2016 میں بھارت کی جانب سے 382 خلاف ورزیاں کی گئی تھیں۔