گلشن اقبال پولیس چھرا مار کی آڑ میں موٹر سائیکل سواروں سے رقم بٹورنے لگی

سادہ لباس پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں پکڑے جانے والے شہریوں کو نیپا پولیس چوکی میں لے جا کر رقم کیلیے تشدد کیا جاتا ہے


Staff Reporter October 28, 2017
بلاجواز ہراساں کرنیوالے پولی ساہلکاروں کیخلاف کارروائی کی جائے، وزیراعلیٰ اور آئی جی سے طالبعلموں کا مطالبہ۔ فوٹو : ایکسپریس

گلشن اقبال پولیس چھرا مار جنونی ملزم کوگرفتارکرنے کی آڑ میں موٹر سائیکل سواروں کو بلاجواز پکڑ کر ڈرا دھمکا کر رقم بٹورنے لگی۔

گزشتہ ماہ 25 ستمبر سے گلستان جوہر کے مختلف علاقوں میں تیز دھار آلے کے وار سے خواتین پر شروع ہونے والے حملوں کا سلسلہ بعدازاں گلشن اقبال ، عزیز بھٹی ، گلشن جمال ، حسن اسکوائر ، فیڈرل بی ایریا اور سعود آباد تک جا پہنچا ،پولیس چھرا مار جنونی ملزم کو تاحال گرفتارکرنے میں بری طرح سے ناکام دکھائی دیتی ہے۔

چھرا مار ملزم کی گرفتاری کے لیے گلستان جوہر اور گلشن اقبال سمیت دیگر علاقوں میں سادہ لباس پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تاکہ جنونی ملزم قانون کی گرفت میں آسکے تاہم ملزم تو تاحال آزاد فضاؤں میں سانس لے رہا ہے لیکن سادہ لباس پولیس اہلکاروں نے شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا۔

گلشن اقبال پولیس کی جانب گلشن شمیم سے گلشن اقبال بلاک 13-D جانے والے سگنل کے اطراف تعینات کیے جانے والے سادہ لباس پولیس اہلکار موٹر سائیکل سواروں میں کالج ،یونیورسٹی اور کوچنگ جانے والے طلبعلموں کے علاوہ دیگر شہری بھی شامل ہوتے ہیں انھیں جبری طور پر روک کر اسلحہ نکال لیتے ہیں جسے دیکھ کر موٹر سائیکل سوار انھیں ڈاکو سمجھتے ہیں اور مزاحمت کرنے پر انھیں بدترین تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

شہریوں کے مطابق گلشن اقبال تھانے کے سادہ لباس اہلکار مزاحمت کرنے والوںکو نیپا فلائی اوور کے نیچے قائم نیپا پولیس چوکی لے جاتے ہیں اور شہری کی جامع تلاشی کے دورانرقم اور دیگر سامان نکال لیا جاتا ہے اور اسے اہلخانہ سے رقم منگوانے کا کہا جاتا ہے اور اگر گھر والوں سے رابطہ نہیں ہوتا تو ان کی موٹر سائیکل اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے کر پیسے لانے کو کہا جاتا ہے اور بعدازاں کچھ نہ کچھ رقم وصول کرنے کے بعد جبری طور پر پکڑے جانے والوں کی جان بخشی کر دی جاتی ہے۔

طالبعلموں نے وزیراعلیٰ اور آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ چھرا مارکی آڑ میں شہر میں پولیس کی جانب سے شہریوں کو بلاجواز ہراساں کرکے اور انھیں مختلف ہتھکنڈوں سے پریشان کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔