صفحۂ اول
تازہ ترین
بجٹ
کھیل
فیفا ورلڈکپ
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
تیرویں صدی میں یہ مردِدرویش سنجر ایران سے چلا اور لاہور سے ہوتا ہوا دور صحرا کے کونے پر بت کدۂ ہند میں آگیا۔
اگر ایک مذہبی گروہ کے مطالبے ناقابلِ عمل تھے تو حکومت نے وعدہ کیوں کیا تھا؟
اپنے اپنے مفادات کی اسیر سیاسی پارٹیاں بھی اس اہم معاملے پر نہ جانے کیوں خاموش ہیں؟
اقبالؔ کی دوربین نگاہیں کشمیریوں کے جذبۂ حریت کے بارے میں جوکچھ سوسال پہلے دیکھ رہی تھیں آج وہ پوری دنیادیکھ رہی ہے۔
لگتا ہے نالائقی اور میرٹ کے برعکس تقرریاں اور فیصلے موجودہ حکومت کا طُرۂ امتیاز بن چکا ہے۔
حکمران اپنا اور اپنی پارٹی کا مفاد سب سے عزیز رکھتے ہیں۔
سینیٹ کے چیئر مین کے الیکشن کے لیے اپنے سیاسی اتحادی کو پریزائیڈنگ افسر بنانا بھی سوال ہے۔
انسان کا ہدف اور عز م بلند ہونا چاہیے، ہماری آرزو ہی ہمیں ہماری پہچان اور شناخت دیتی ہے۔
پچھلے ڈھائی سالوں میں کسی ایک واقعے کے باعث حکومت اتنی بدنام نہیں ہوئی جتنی ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں ہوئی ہے۔
کسی روشن دل، خدا پرست اور آخرت پسند انسان کی صحبت اختیار کرنا کسی بادشاہ کے سر کا تاج بن جانے سے بہترہے۔