صفحۂ اول
تازہ ترین
بجٹ
کھیل
فیفا ورلڈکپ
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
آپ نے خون آسمان کی طرف اچھالا اور کہا۔’’الٰہی ! دیکھ تیرے رسول ؐ کے نواسے سے کیا برتاؤ ہو رہا ہے؟‘‘
لڑائی اپنی پوری ہولنا کی سے جاری تھی، اب دوپہر ہوگئی مگرکوفی فوج غلبہ حاصل نہ کرسکی۔
آپ نے غضب ناک ہو کر فرمایا،’’تو مجھے موت سے ڈراتاہے،کیا تمہاری شقاوت اس حد تک پہنچ جائے گی کہ مجھے قتل کرو گے؟
ایسا ظلمِ عظیم کس ہستی کے خاندان سے ہوا۔ یہ روئے زمین اور پوری انسانیت جِنکے احسانوں تلے قیامت تک دبی رہے گی۔
نظریں اُوپر اٹھاکر دیکھا تو عمارت پر جلی حروف میں لکھا تھا’’ اصفہان سٹی سینٹر‘‘۔
نقشِ جہاں کی مشرقی جانب شیخ لطف اللہ مسجد ہے،مغربی حصّے میں علی کاپو محل ہے جہاں شاہ عباس رہائش پذیر ہوتا تھا۔
شیراز سے ہم دوپہر کو چلے تھے اور شام تک اس سفر کا بخیر یت اختتام ہوا، اصفہان کا اڈّہ بھی شیراز کی طرز کا تھا۔
آج کل باغِ ارم شیراز یونیورسٹی کے انتظام وانصرام میں ہے جو پودوں کو تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔
پاکستانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر کے ہر گھر سے ہر روز کسی نہ کسی خوبرومسلم نوجوان کا جنازہ اٹھتا ہے۔
اگر ہم کشمیری مسلمانوں کی SOS کال پر خاموش رہے تو سید علی گیلانی کے بقول ہم رب ذوالجلال کو کوئی جواب نہیں دے سکیں گے۔