نیا آرمی چیف… درپیش چیلنجز

جنرل راحیل فوج کو درپیش اندرونی چیلنجوں کے لیے تیار کرنے کے بارے میں برسوں پرمحیط کوششوں کے حوالے سے جانے جاتے ہیں


Editorial November 28, 2013
ئے آرمی چیف راحیل شریف 16 جون 1956 کوکوئٹہ میں میجر محمد شریف کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ نشان حیدر حاصل کرنے والے شہید میجرشبیرشریف ستارہ جرأت اورکیپٹن ممتاز شریف ستارہ بسالت کے چھوٹے بھائی ہیں.فوٹو:فائل

لیفٹیننٹ جنرل راحیل شریف کو پاک فوج کا نیا سربراہ اور لیفٹیننٹ جنرل راشد محمود کو نیا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تعینات کر دیا گیا ہے اور دونوں کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مشورے پر بدھ کو صدر مملکت جو مسلح افواج کے سپریم کمانڈر بھی ہیں' نے یہ تقرریاں عمل میں لائیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بری فوج کے 14 ویں سربراہ کی حیثیت سے آج اپنی 40 سالہ پیشہ ورانہ خدمات کے بعد سبکدوش ہو گئے۔ اس طرح جنرل راحیل شریف بری فوج کے 15 ویں سربراہ ہیں' وہ پاک فوج میں مختلف عہدوں پر خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کے نئے آرمی چیف بننے کے بعد سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں کی چہ میگوئیاں دم توڑ گئی ہیں جن کے مطابق سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم کے آرمی چیف بننے کا امکان تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل ہارون اسلم بطور آرمی چیف ترقی نہ پانے پر ریٹائر ہو گئے ہیں۔ ترقی پانے والے دونوں جنرل' ہارون اسلم سے جونیئر تھے۔ فوج میں روایت ہے کہ جب کسی سینئر کے بجائے جونیئر کو ترقی دی جاتی ہے تو سینئر یا تو جونیئر کی زیر کمان ملازمت جاری رکھتا ہے یا پھر ریٹائرمنٹ پر چلا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے پنجاب ہائوس میں وزراء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بغیر سفارش کے جنرل راحیل شریف کو ترقی دی ہے' جنرل شریف ٹاپ پروفیشنل ہیں انہیں ٹاپ پروفیشنل دیکھ کر انہیں آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق دونوں عہدوں پر تقرری کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف نے جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بھی مشاورت کی۔

نئے آرمی چیف راحیل شریف (ہلال امتیاز ملٹری) 16 جون 1956 کوکوئٹہ میں میجر محمد شریف کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ نشان حیدر حاصل کرنے والے شہید میجرشبیر شریف ستارہ جرأت اورکیپٹن ممتاز شریف ستارہ بسالت کے چھوٹے بھائی ہیں۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور اور پاکستان ملٹری اکیڈمی سے تعلیم پائی جہاں انھوں نے54 واں کورس پاس کیا۔ راحیل شریف نے اکتوبر1976 میں کمیشن حاصل کیا۔ نوجوان کی حیثیت سے انھوں نے انفنٹری بریگیڈ گلگت میں اپنے فرائض سر انجام دیے اور پاکستان ملٹری اکیڈمی میں ایجوٹنٹ کے طور پر بھی کام کیا۔ انھوں نے کمپنی کمانڈر کا کورس جرمنی سے کیا اور بعد ازاں اسکول آف انفنٹری ان ٹیکٹس میں انسٹرکٹر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ انھوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کینیڈا سے اعزاز کے ساتھ اعلیٰ تعلیم پائی۔ وہ کمانڈ اسٹاف اور انسٹرکشنل تقرریوں کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ انفنٹری بریگیڈ کے بریگیڈ میجر رہے اور2انفنٹری یونٹوں کی کمانڈ کی جن میں کشمیر میں6فرنٹیئر فورس رجمنٹ اور سیالکوٹ بارڈر پر 26 فرنٹیئر فورس رجمنٹ شامل ہیں۔ وہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کی فیکلٹی میں شامل تھے اور انھوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں1998 میں آرمڈ فورسز وار کورس میں شرکت کی۔

بریگیڈیئر کی حیثیت سے انھوں نے انڈیپنڈنٹ انفنٹری بریگیڈ گروپ سمیت 2انفنٹری بریگیڈزکی کمانڈ کی۔ انھیں 2کور کے چیف آف اسٹاف ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے جن میں30 کور اور12 کور شامل ہیں۔ وہ برطانیہ کے رائل کالج آف ڈیفنس اسٹڈیزکے گریجویٹ ہیں۔ وہ انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کمانڈنٹ رہے۔ لیفٹیننٹ جنرل کی حیثیت سے انھوں نے انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایولوایشن سے قبل دو سال تک30کورکے کمانڈر کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیں۔ان کے دوبیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ انھیں مطالعے، پیراکی اور شکار کا شوق ہے۔ نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود ہلال امتیاز ملٹری نے مئی1975 میں بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ انھوں نے فرانس میں کمپنی کمانڈر کورس میں شرکت حاصل کی۔ وہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کینیڈا اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجوایٹ ہیں۔ ان کی بڑی تقرریوں میں پاکستان ملٹری اکیڈمی میں پلاٹون کمانڈر، بریگیڈ میجر انفنٹری بریگیڈ، کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور نیشنل ڈیفنس کالج میں انسٹرکٹر کی حیثیت سے خدمات شامل ہیں۔ وہ کور کمانڈر لاہور اور سابق صدر رفیق تارڈ کے ملٹری سیکریٹری بھی رہے۔

نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ورثے میں بہت سے چیلنجز ملے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ان چیلنجز سے کیسے نمٹتے ہیں۔ ایک طرف بھارتی فوج کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر آئے روز فائرنگ کرکے پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرنے کے درپے رہتی ہے تو دوسری جانب اندرون ملک قبائلی علاقوں میں موجود انتہا پسندوں کی جانب سے دہشت گردی کی کارروائیاں ملک کی سلامتی اور امن کے لیے چیلنج بن چکی ہیں۔ طالبان کے نئے سربراہ مولوی فضل اللہ جو سوات میں پاک فوج کے کامیاب آپریشن کے بعد افغان صوبے کنڑ میں چھپے ہوئے ہیں' پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کر چکے اور حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی بہتر نہیں اور اعلیٰ ترین عدالتوں میں لاپتہ افراد کے کیسز بھی ایک نیا محاذ کھولے ہوئے ہیں' کراچی کے حالات بھی پریشانی کا باعث ہیں۔ مغربی سرحد کی جانب بھی ملک کی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔ افغانستان سے 2014ء میں امریکی افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان کے لیے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے امریکا اور عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے جنیوا معاہدے کے بعد پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں بھی نئی صورتحال جنم لے سکتی ہے۔ بی بی سی کے مطابق جنرل راحیل شریف پاکستانی فوج کو درپیش اندرونی چیلنجوں کے لیے تیار کرنے کے بارے میں برسوں پر محیط کوششوں کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ''رائٹر'' کی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف کو ایسا اعتدال پسند فوجی کمانڈر سمجھا جاتا ہے جو بھارت سے عسکری کشمکش کے ساتھ پاکستان کے اندرونی خطرات کو بھی اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں وہ تحریک طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کو بھی اتنا ہی بڑا خطرہ سمجھتے ہیں جتنا کہ بھارت ہے۔جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بطور آرمی چیف فوجی امور پر توجہ دی اور سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کیا' جمہوریت کے فروغ میں ان کے شاندار کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے بھی ایسی ہی امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔