قبائلی جرگے نے ڈرون حملے رکوانے کا مطالبہ کردیا

فریقین کی جانب سے سخت رویہ اپنانے کے باوجود ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کا فیصلہ


Numaindgan Express November 29, 2013
فریقین کی جانب سے سخت رویہ اپنانے کے باوجود ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کا فیصلہ. فوٹو: اے ایف پی

مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میںکام کرنیوالے قبائلی جرگے نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ ڈرون حملے رکوائے جائیں اور قیام امن کیلیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے پالیسی واضح کی جائے۔

جرگہ فریقین کی جانب سے سخت رویہ اپنانے کے باوجودثالثی کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا کیونکہ اسی طریقہ سے فریقین میںمعاملات طے کرائے جاسکتے ہیں، جے یوآئی(ف)کے مرکزی امیراورقبائلی جرگے کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن نے جمعرات کوپشاورمیں قبائلی جرگے کے اختتام پرمولاناعبدالغفورحیدری کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ گزشتہ سال قبائلی جرگے کے قیام کا مقصد امن کاقیام تھا۔



دوسری جانب قبائلی عوام اور تحریک طالبان پاکستان نے بھی جرگے پر اعتماد کا اظہار کیا تھا تاہم بدقسمی سے سابقہ حکومت اسلام آباد متفقہ اعلامیے پرعمل نہ کرسکی۔انھوںنے کہاکہ جرگے نے ڈرون حملوںپربھی اپنااحتجاج ریکارڈ کرایا ہے کیونکہ ڈرون حملوںکی وجہ سے فاٹامیںقیام امن کی کوششیںسبوتاژہورہی ہیںاس لیے مرکزی حکومت اپناکرداراداکرتے ہوئے یہ ڈرون حملے بندکرائے۔انھوں نے کہاکہ قبائلی جرگے پرنہ توکسی سیاسی جماعت نے اورنہ ہی تحریک طالبان پاکستان نے اعتراض کیااس لیے یہ جرگہ متفقہ ہی ہے۔

مقبول خبریں