عظیم لیڈر نیلسن منڈیلا کا انتقال

نیلسن منڈیلا نے اپنی جوانی کے 27 برس نسل پرست حکومت کی جیل میں گزارے۔


Editorial December 06, 2013
نیلسن منڈیلا نے اپنی جوانی کے 27 برس نسل پرست حکومت کی جیل میں گزارے۔ فوٹو: فائل

''کوئی بھی پیدائشی طور پر کسی سے رنگ' نسل' عقیدے وغیرہ کی بنا پر نفرت نہیں کرتا بلکہ لوگوں کو نفرت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ گویا اگر ان کو نفرت سکھائی جاتی ہے تو محبت کرنا بھی سکھایا جا سکتا ہے جو انسان کے لیے زیادہ فطری بات ہے'' یہ الفاظ جنوبی افریقہ کے عظیم لیڈر نیلسن منڈیلا کے ہیں۔ وہ جمعرات کی شب 95 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے ان کی موت کا اعلان کیا۔ وہ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا تھے۔ ان کے انتقال پر عالمی رہنماؤں نے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیلسن منڈیلا بااثر، باہمت اور عظیم رہ نما تھے، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ ایک عظیم شمع بجھ گئی، جنرل سیکریٹری اقوام متحدہ بان کی مون نے منڈیلا کو انصاف کا دیوتا قرار دیا۔ نیلسن منڈیلا نے جنوبی افریقہ میں نسل پرست سفید فام حکومت کے خلاف انقلابی جدوجہد کی۔

انھوں نے ملک میں رنگ نسل اور امیر غریب کے امتیاز کو ختم کرنے کے لیے جو تحریک چلائی اس کی بدولت وہ محض جنوبی افریقہ کے عوام ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام کے لیے جدوجہد کا استعارہ بن گئے۔ انھوں نے اپنی جوانی کے 27 برس نسل پرست حکومت کی جیل میں گزارے۔ پھر ان کی جدوجہد رنگ لائی اور انھیں رہا کر دیا گیا۔ وہ 1994ء سے لے کر 1999ء تک جنوبی افریقہ کے صدر رہے۔ اپنے اقتدار کے عرصے میں انھوں نے جنوبی افریقہ میں نسل پرستی پر مبنی قوانین کا خاتمہ کر دیا۔ جن لوگوں نے انھیں قید کیا تھا انھیں معاف کر دیا گیا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ جنوبی افریقہ کی سرزمین پر بسنے والی گوری اقلیت بھی اسی طرح اس ملک کے باشندے ہیں جس طرح قدیم مقامی باشندے۔ 1999ء کے بعد انھوں نے رضاکارانہ طور پر اقتدار سے علیحدگی اختیار کر لی اور یوں وہ جنوبی افریقہ کی عوام کے لیے ایک رہبر کی شکل اختیار کر گئے۔ نیلسن منڈیلا کا پوری دنیا میں احترام کیا جاتا ہے۔ ان کی جدوجہد اور خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں بابائے جمہوریہ جنوبی افریقہ کہا جاتا ہے۔ انھیں احترام سے مادیبا کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔

دسمبر 1993ء میں انھیں امن کا نوبل انعام ملا۔نیلسن منڈیلا جولائی 1918ء کو جنوبی افریقہ کے ایک چھوٹے سے گائوں کے تھمبو قبیلے میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام رولیہلا ہلا تھا جب کہ ان کے اسکول کے استاد نے ان کا انگریزی نام 'نیلسن' رکھا۔ نیلسن نو برس کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ انھوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ انھوں نے وکالت کا امتحان پاس کرنے کے بعد 1952ء میں اپنے ساتھی اولیور تیمبو کے ساتھ مل کر جوہانسبرگ میں قانون کی پریکٹس شروع کی۔ اور نسل پرستی کے اس نظام کے خلاف مہم چلائی جسے سفید فام افراد پر مشتمل جماعت نیشنل پارٹی نے وضع کیا تھا اور جس سے سیاہ فام اکثریت کا استحصال ہو رہا تھا۔1956ء میں منڈیلا اور 155 دیگر کارکنوں پر غداری کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ مقدمہ چار سال چلا اور اس کے بعد یہ الزامات خارج کر دیے گئے۔ انھیں 1964ء میں سبوتاژ اور بغاوت کے الزامات میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی اور فروری 1990ء میں انھیں رہائی ملی تھی۔

ایک انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ وہ کیا چاہیں گے کہ لوگ انھیں کس طرح یاد کریں، تو منڈیلا کا جواب تھا کہ 'میں چاہوں گا کہ لوگ کہیں ایک ایسا شخص تھا جس نے دنیا میں اپنا فرض نبھایا۔ منڈیلا کی تدفین مشرقی کیپ کے گاؤں کونو میں ہو گی جہاں وہ پلے بڑھے تھے۔ تدفین سے قبل جوہانسبرگ میںقومی سوگ کی تقریب منعقد ہوگی، بعدازاں ان کی میت کو پریٹوریا میں تین دن تک دیدارِ عام کے لیے رکھا جائے گا۔ نیلسن منڈیلا جدید دنیا کے قابلِ احترام حکمرانوں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے جنگ زدہ علاقوں میں قیامِ امن کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔ اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے باوجود ان میں بالکل تلخی نہیں تھی۔ 2001ء میں نیلسن منڈیلا میں کینسر کی تشخیص ہوئی لیکن وہ جمہوریہ کانگو، برونڈی اور دوسرے افریقی ممالک کے امن مذاکرات میں بھی شامل رہے۔ ستائیس برس پر محیط اپنی قید پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ "قید میں آپ کا سامنا وقت سے ہوتا ہے، اس سے زیادہ خوفزدہ کرنے والی چیز کوئی نہیں۔"