ریاست غریب آدمی کا صبر نہ آزمائے مہنگائی پر قابو پائے قومی اسمبلی میں بحث

معیشت پرچند افراد کا قبضہ ہے،دنیا میں کوئی صنعتکاروزیراعظم نہیں،ہاشمی،غریبوں کے قرضے معاف کریں، ساجداحمد


Numaindgan Express December 12, 2013
باہرسے اثاثے واپس لائیں انقلاب برپا ہوجائیگا، اپوزیشن سیاست کے بجائے موثرتجاویز دے، حکومتی ارکان، کورم ٹوٹنے پراجلاس ملتوی۔ فوٹو: فائل

KARACHI: اراکین قومی اسمبلی نے کہاہے کہ ملک میں کسی چیزکی کمی نہیں، صرف صحیح سمت کے تعین کا فقدان ہے۔

ہمیں مسائل کادرست ادراک کرکے آگے بڑھناچاہیے، تقریروں سے مسائل حل نہیں کیے جاسکتے، ریاست افراط زرپرقابوپانے کیلیے اپنی ذمے داریاں پوری کرے، پاکستان کے غریب آدمی کے صبرکواورآزمایاگیاتوحالات خراب ہوں گے،سیاستدان اپنے بیرون ملک تمام اثاثے ملک میںواپس لے آئیں توانقلاب برپاہوسکتاہے۔ قومی اسمبلی کااجلاس بدھ کواسپیکر سردارایازصادق کی زیرصدارت ہواجس میںمختلف اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے زاہدحامدکی تحریک پربحث میںحصہ لیتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہاکہ پورے ملک کی معیشت پرچندافرادنے قبضہ کررکھاہے، گھی، چینی، دودھ اورچائے کی پتی جیسی اشیائے ضروریہ پراجارہ داری قائم ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ دنیا میں کوئی صنعتکاروزیراعظم نہیں، ملک کے بڑے صنعت کارہمارے وزیراعظم ہیں، مہنگائی کی ذمے دارحکمراں اشرافیہ ہے ۔



دانیال عزیزنے کہاکہ ہمیں اس بات کاپہلے یہ تعین کرناہوگاکہ مہنگائی پرقابوپانا صوبائی مسئلہ ہے یاوفاقی معاملہ ہے۔پیپلزپارٹی کے رکن ایازسومرونے کہاکہ ملک کے وسائل کی تقسیم برابری کی بنیادپرہونی چاہیے۔ن لیگ کی رکن عارفہ خالد نے کہاکہ حزب اختلاف نے ابھی تک کوئی موثرتجویزنہیں دی صرف غریبوں کانام لے کرسیاست کی جارہی ہے۔ ایم کیوایم کے رکن اسمبلی ساجداحمدنے کہاکہ سیاسی جماعتوں نے غریب کانعرہ لگاکر ووٹ تو لیے ہیں لیکن عملی طورپرکچھ بھی نہیں کیاگیا، قرضہ امیروں کو نہیں غریب لوگوں کو دیا جائے ۔

مقبول خبریں