مفلوج شخص نے پہلی مرتبہ سوچ سے جملے بنانے شروع کردیئے

دماغ اور کمپیوٹر کے ملاپ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے سوچ سے جملے لکھنے می کامیابی ملی ہے


ویب ڈیسک May 14, 2021
تصویرمیں 65 سالہ شخص (جس کا نام نہیں بتایا گیا) نے صرف اپنی سوچ کے ذریعے ایک منٹ میں 18 الفاظ تحریر کئے جو ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ فوٹو: سی این این

پہلی مرتبہ گردن سے نیچے تک مکمل طور پر معذور شخص نے اپنے دماغ سے اسکرین پر جملے لکھے جو طبی تاریخ میں ایک بہت نمایاں کامیابی ہے۔

سائنسدانوں نے بال سے باریک دو الیکٹروڈ سینسر مریض کے دماغ کے بائیں جانب لگائے اور اس سے کہا کہ وہ اپنے دماغ میں جملے اس طرح لکھے جیسے عام لوگ ہاتھ سے کاغذ پر تحریر لکھتےہیں۔ اسے 'مائنڈ رائٹنگ' یا دماغی تحریر کا نام دیا گیا ہے۔

نو برس سے معذور 65 سالہ شخص سے کہا گیا کہ وہ اپنے ذہن میں کاغذ اور قلم کا تصور کرے۔ اس دوران دماغ میں تصور کرنے کا سارا عمل سینسر نے نوٹ کیا۔ اس میں تحریر کے گھماؤ اور بناوٹ کو ایک الگورتھم نے پڑھا اور وہ سامنے اسکرین پر ٹیکسٹ کی صورت میں نمودار ہوتا رہا۔

یہ تجربہ اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کیا ہے اور ان کے مطابق دماغی تحریر کا عمل عام فون پر ٹیکسٹ لکھنے سے بھی تیزرفتارہے۔ اگرچہ لکھنے کا عمل بہت پیچیدہ ہوتا ہے اور ہاتھوں کی حرکات میں لاکھوں نیورون (عصبی خلیات) سرگرم ہوسکتےہیں۔ تاہم انہوں نے صرف 200 اہم عصبی خلیات کوہی تختہ مشق بنایا جس کا ڈیٹا مصنوعی ذہانت کے ایک سافٹ ویئر تک بھیجا گیا اور اس کا نتیجہ اسکرین پر ظاہر ہوتا رہا۔



اس طرح معذور شخص نے ایک منٹ میں 18 الفاظ کامیابی سے لکھے جو اس سے قبل بنائے گئے تمام نظاموں سے دوگنا تیز ہیں۔ اس طرح یہ ایجاد دنیا بھر میں لاکھوں کروڑوں ایسے افراد کو آواز فراہم کرسکے گی جو فالج یا کسی حادثے کے بعد کچھ بھی کہنے اور لکھنے سے قاصر ہیں۔

اگرچہ ایسے کئی نظام پہلے بھی بنائے گئے ہیں لیکن ان میں کوئی نہ کوئی خامی اور سست روی شامل تھی۔ اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے صرف اس نظام پر مسلسل دوبرس تک محنت اور تحقیق کی ہے۔ تاہم یہ گروہ کئی برسوں سے دماغ اور کمپیوٹر کے ملاپ اور اطلاقات پر کام کرتا رہا ہے۔

مقبول خبریں