جدہ میں گرفتار پاکستانیوں کی حالت زار

حکومت کو فوری طور پر ان پاکستانیوں کی دادرسی کے لیے متحرک ہونا چاہیے


Editorial February 08, 2014
حکومت کو فوری طور پر ان پاکستانیوں کی دادرسی کے لیے متحرک ہونا چاہیے فوٹو؛ فائل

اخباری اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں گرفتار تین ہزار پاکستانیوں کی مبینہ حالت زار کے بارے میں از خود نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری وزارت خارجہ سے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس نے یہ نوٹس سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری علی خان کی ای میل پر، جو اس نے سپریم کورٹ ہیومن رائٹس سیل کو ارسال کی تھی، لیا ہے۔ ای میل کے مطابق 3 ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس بھجوانے کے لیے سعودی حکومت نے گرفتار کر کے جدہ کے ایک مرکز میں رکھا ہے جب کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران اس مرکز میں چند پاکستانی مر بھی چکے ہیں۔ ایک ای میل میں مزید کہا گیا ہے کہ وطن واپس بھیجنے کے لیے پاکستانی سفارتخانے کو کاغذات تیار کرنے ہیں لیکن سفارت خانے کے حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستانی شہری علی خان نے چیف جسٹس سے اس واقعے کا از خود نوٹس لینے کی استدعا کی تھی جس پر عدالت نے سیکریٹری وزارت خارجہ سے ایک ہفتے میں رپورٹ طلب کی ہے۔ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے وزارت خارجہ کے سیکریٹری سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے سے متعلق ایک ہفتے میں جامع رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں، رپورٹ جمع کروائے جانے کے بعد سپریم کورٹ اس معاملے کی سماعت رہے گی۔ یاد رہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفیر نعیم خان نے چند روز قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ سفارت خانے نے اس معاملے کو سعودی حکام کے ساتھ اٹھایا ہے جنھوں نے اس بارے میں پاکستانیوں کے ساتھ خاصا نرم رویہ رکھا ہے۔ سعودی حکومت مسلم برادرانہ تعلقات کے سبب یقیناً نرم رویہ اختیار کیے ہوئے ہے لیکن تین ماہ سے قید پاکستانیوں کی حالت زار کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس دوران چند پاکستانی مر بھی چکے ہیں، موسم کی شدت اور سہولیات کی عدم دستیابی بھی قیدیوں کی طبیعت میں مزید خرابی کا باعث بنے گی۔

اس معاملے میں پاکستانی سفارتخانے کی روایتی کاہلی بھی قابل مذمت ہے جس کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے مقید پاکستانیوں کے واپسی کے کاغذات اب تک مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔ اس انسانی معاملے پر چیف جسٹس کا از خود نوٹس یقیناً قابل تحسین ہے۔ حکومت کو بھی فوری طور پر ان پاکستانیوں کی دادرسی کے لیے متحرک ہونا چاہیے۔ یہ پاکستانی روزگار کے سلسلے میں سعودیہ گئے تھے، نئے قانون کے بعد قانونی طور پر گئے ہوئے متعدد پاکستانی بھی غیر قانونی قرار دیے گئے ہیں، تارکین وطن کا کہنا ہے کہ چھپ چھپا کر کام کرنے والے اپنی آمدنی کا 80 فیصد کفیل جب کہ 20 فیصد اپنے گھر والوں کو بھجوا رہے ہیں، ایسا نہ کرنے والے کو کفیل کی جانب سے دھمکیوں کا بھی سامنا ہے۔ پاکستانی سفارتخانے کو سعودی حکومت سے سفارش کرنی چاہیے کہ وہ کاغذات کی تکمیل کے لیے مزید وقت دے اور اگر ممکن ہو سکے تو روزگار کی تلاش میں جانے والے ان پاکستانیوں کو سعودیہ میں دوبارہ قانونی حیثیت دلوانے کی کوشش کی جائے۔ ملک میں بے روزگاری کے تناظر میں یہی راست اقدام ہو گا۔