تحریک عدم اعتماد اور لانگ مارچ سے وزیراعظم نے گھبرانا شروع کردیا بلاول بھٹو

کراچی، ٹھٹھہ اور سجاول نے ’گو سلیکٹڈ گو‘ کا فیصلہ سنادیا، بلاول بھٹو / لانگ مارچ بدین سے اگلی منزل کی جانب رواں دواں


ویب ڈیسک February 27, 2022
پیپلز پارٹی کا یہ لانگ مارچ دس دنوں میں 34 شہروں سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچے گا (فوٹو : فائل)

MIAMI: پیپلز پارٹی کا حکومت کے خلاف کراچی سے شروع ہونے والا لانگ مارچ جاری ہے جس کی منزل 34 شہروں سے گزر کر اسلام آباد پہنچنا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پیپلز پارٹی نے حکومت کے خلاف مزار قائد سے لانگ مارچ کا آغاز کیا جو 10 دنوں میں 34 شہروں سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچے گا۔ اس موقع پر سیکڑوں کارکنان درجنوں گاڑیوں میں شہر اور ملک کے دیگر حصوں سے مزار قائد پہنچے۔ کارکنان نے ہاتھوں میں پارٹی پرچم اٹھائے ہوئے تھے جب کہ وہ وقفے وقفے سے پارٹی کے حق میں اور حکومت کے خلاف نعرے بھی لگاتے رہے تھے۔

کراچی سے روانگی کے پر بلاول نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیازی کو بھگا کر جمہوری نظام لائیں گے، عمران خان کی حکومت کرپٹ ترین حکومت ہے جس نے کرپشن ختم کرنے وعدہ کیا مگر عمران خان کے دور حکومت میں کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ چیئرمین پی پی نے کہا کہ نالائق نیازی نے ملک کی معیشت تباہ کردی، تین سال دیکھ چکے اب سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی کو گھر جانا ہے، کٹھ پتلی کے خلاف کراچی کے عوام احتجاج کرنے پر مجبور ہوچکےہیں۔

اس موقع پر بلاول نے گو سلیکٹڈ گو کے نعرے بھی لگوا دیئے اور مزید کہا کہ حکومت کے خلاف اعلان جنگ پر عوام کا ساتھ دینے پر شکر گزار ہوں، بس بہت ہوگیا، تین سال دیکھ چکے اب سلیکٹڈ کو گھر جانا ہوگا۔ کراچی میں مارچ کے شرکا سے خطاب میں وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ نااہل حکومت کے تابوت میں یہ لانگ مارچ آخری کیل ثابت ہوگا، لانگ مارچ حکومت کے خاتمہ کے لیے اسلام آباد کا رخ کر رہا ہے۔

میاں رضا ربانی نے کہا کہ قائد اعظم کا مزار وہ جگہ ہے جہاں سے شہید بھٹو نے ایوب خان کی خلاف علم بغاوت بلند کیا، آج اسی جگہ سے پیپلز پارٹی وفاق کا سودا کرنے والی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہے، عوام کا سمندر اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی سے خیبر تک اور کوئٹہ سے لاہور تک پاکستان کے عوام نے حکومت کی خلاف علم بغاوت اٹھالیا ہے۔

دریں اثنا عوامی مارچ اسٹیل مل کے سامنے رُکا جہاں بلاول بھٹو زرداری نے اسٹیل مل کی نجکاری نہ ہونے دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 'اسٹیل مل کے دروازے ملازمین کے لیے ہم کھولیں گے'۔ بعد ازاں مارچ ٹھٹھہ سے ہوتا ہوا سجاول کی جانب چلا گیا۔

ٹھٹھہ میں شرکا سے خطاب

ٹھٹھہ میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، ہم اسلام آباد پہنچیں گے لیکن کسی کو غیرقانونی حملے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم ٹی وی پرآکر کہتا ہے کہ گھبرانا نہیں ہے مگر اب وزیراعظم کے گھبرانے کا وقت شروع ہوگیا ہے۔

بلاول نے کہا کہ اس کٹھ پتلی سے بھی ہرایک ظلم اورزیادتی کاحساب لیں گے، جن کے پاس چھت اور روزگار تھا نااہل حکمرانوں نے وہ بھی چھین لیا، عوام سے پوچھتاہوں کہ تین سال گزرگئے کیا مہنگائی ختم ہوگئی ہے، کٹھ پتلی کہتاہے کہ عوام کو بتاوکہ مہنگائی نہیں ہوئی ہے۔

سجاول میں شرکا سے خطاب

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے سامنے ناجائز، نااہل و نالائق وزیر اعظم ہے جس کو جیالے گھر بھیجنے کے لیے تیار ہیں، سجاول کے عوام کو بھی نیا پاکستان پسند نہیں آیا، عمران نے ایک کروڑ نوکری دینے کا وعدہ کیا لیکن ایک نوکری بھی سجاول کو نہیں ملی، پچاس لاکھ میں سے ایک بھی گھر نہیں ملا، نااہل حکمرانوں نے تبدیلی کے نام پر تباہی مچا دی ہے، کٹھ پتلی کے دور میں غربت، بے روزگاری اور کرپشن میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے فیصلہ کر لیا اب نااہل حکومت کو ایک دن برداشت نہیں کرسکتے، کراچی، ٹھٹھہ اورسجاول نے فیصلہ سنا دیا ہے ہر شہری کا مطالبہ ہے کہ گو سلیکیٹڈ گو ہے، ہم حکومت سے ہر ظلم کا حساب لیں گے، عمران خان کو خود مستعفی ہو جانا چاہیے ورنہ جمہوری طریقے سے اس غیرجمہوری شخص کو گھر بھیجیں گے۔

'عوام کو ساتھ ملا کر کٹھ پتلی حکومت کو گھر بھیجیں گے' : بدین میں خطاب

بدین پہنچنے پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں یہاں کے عوام نے کبھی مایوس نہیں کیا، پیپلزپارٹی عوام کو ساتھ ملا کر کٹھ پتلی حکومت کو گھر بھیجیں گے، ہم عوام کے حقوق اورجموریت اور عوامی حق حکمرانی کے لیے جدوجہد کررہے ہیں، پیپلزپارٹی عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہے، ایک بارپھر عوام کے پاس آیاہوں کہ عوام پریشان اور ملک میں معاشی بحران ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدین کے عوام نے ذوالفقارعلی بھٹو اور شہید بی بی کا ساتھ دیا اور کبھی پیپلزپارٹی کو مایوس نہیں کیا، جگہ جگہ عوام نے تاریخی تعداد میں پیپلزپارٹی لانگ مارچ کا استقبال کیا، جس سے حکومت بوکھلا گئی ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ نے صرف اے ٹی ایمز کی خدمت کی اورانہیں ترقی دی، اس حکومت کا وزیر خارجہ سندھ میں نکلا ہے جس کو عوام نے مسترد کر دیا، یہ سیاسی حکومت نہیں سیاسی یتیموں کی کٹھ پتلی حکومت ہے، ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن اس وقت جو کیا وہ صرف پیپلزپارٹی نے کیا ہے، وزیراعظم پوچھتے ہیں کہ ہم نے کیا کیا تو بتانا چاہتا ہوں پیپلزپارٹی تین نسلوں سے عوامی خدمت میں مصروف ہے۔

پی پی چیئرمین نے کہا کہ یہ کسی سیاسی جماعت کی حکومت نہیں ہے، ہماری تحریک عدم اعتماد کی بات سے وزیراعظم نے گھبرانا شروع کردیا ہے۔