چھوٹے سرمایہ کاروں کی سہولت کیلیے مراکز قائم

10 کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری کرنے والوں کو یوٹیلٹی کنکشنز کے حصول و دیگر امور میں مدد دینگے، مفتاح اسماعیل


Khususi Reporter July 09, 2014
انویسٹمنٹ ٹو جی ڈی پی شرح 20 فیصد،روس سے تنازعات جلد حل، سرمایہ کاری معاہدے کے امریکی مسودے پر تاجروں کے تحفظات دور کیے جا رہے ہیں، پریس کانفرنس۔ فوٹو: فائل

سرمایہ کاری بورڈ نے ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلیے وفاقی دارلحکومت سمیت چاروں صوبائی دارلحکومتوںمیں فسیلٹیشن سینٹرز قائم کر دیے ہیں۔

منگل کو سرمایہ کاری بورڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ یہ فسیلیٹیشن سینٹر 10 کروڑٖ روپے مالیت تک کی سرمایہ کاری کرنے والے چھوٹے تاجروں و سرمایہ کاروں کو وفاقی صوبائی اور ضلعی سطح پر بجلی، پانی، گیس سمیت دیگر یوٹیلٹی کنکشن کے حصول میں مدد فراہم کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں کاروبار کرنے کو آسان بنانے اور مسابقت کے فروغ کے لیے جلد ون اسٹاپ شاپ قائم کی جا رہی ہیں جس پر عمل درآمدکے لیے ایف بی آر، ایس ای سی پی اور ای او بی آئی سمیت صوبائی حکومتوں سے مشاورت جاری ہے،مذکورہ منصوبے پر فیز ون کے تحت 10 میں سے 5 بزنس انڈیکٹرز پر کام شروع کردیا گیا ہے۔

امریکا کے ساتھ دوطرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے کے بارے میں سوال پر انھوں نے بتایا کہ امریکا کی طرف سے فراہم کیے جانے والے نئے مسودے پر پاکستان کے تمام اداروں نے ورکنگ مکمل کرلی ہے تاہم تاجروں و صنعتکار طبقے کو قانونی لحاظ سے کچھ تحفظات ہیں جنہیں دور کیا جارہا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ آئندہ 7 سے 8 سال میں چین سے 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے، گزشتہ مالی سال براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں ڈھائی فیصد اضافہ ہوا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ اپنے منشور سے ہٹ کر کسی شرط پر اتفاق نہیں کیا۔

ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کو 47 مرتبہ ٹیکس بھرنا پڑتا ہے جس میں وفاقی ٹیکسوں کے علاوہ صوبائی ٹیکس اور دیگر ٹیکس شامل ہیں، بورڈ کی کوشش ہے کہ اس نظام کو آسان بنایا جائے، بیرون ملک سامان بھجوانے اور منگوانے کے لیے بھی بہت وقت اور چارجز دینا پڑتے ہیں، کوشش ہے کہ اسے کم کیا جائے۔ ایک سوال پرانہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاری سے متعلق تنازعات کے حل کیلیے آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیاں قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، پاکستان میں جی ڈی پی کے لحاظ سے سرمایہ کاری کی شرح صرف 14 فیصد ہے جسے20 فیصد تک بڑھایا جائے گا، روس سے تجارتی تنازعات کو بھی جلد حل کر لیا جائے گا۔

مقبول خبریں