انڈونیشیا کے مرکزی جزیرے جاوا میں شدید بارشوں کے باعث آنے والے لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد جاں بحق جبکہ 80 سے زائد لاپتہ ہو گئے ہیں۔
حکام کے مطابق حادثہ ہفتے کی صبح سویرے مغربی بندونگ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں مٹی کا بڑا تودہ رہائشی علاقوں پر آ گرا۔
قومی ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان عبدال محری کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ رات تقریباً ڈھائی بجے کے وقت ہوئی، جس نے متعدد دیہات کو متاثر کیا اور درجنوں گھروں کو ملبے تلے دبا دیا۔ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم زمین غیر مستحکم ہونے کے باعث ریسکیو کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی حکام کے مطابق فوج، پولیس اور رضاکار لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں ہاتھوں سے کھدائی، پانی کے پمپ اور ڈرون کی مدد سے متاثرین کو تلاش کر رہی ہیں۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حادثے سے قبل گرجدار آواز سنائی دی اور کئی گھنٹوں سے مسلسل بارش ہو رہی تھی۔
انڈونیشیا میں اکتوبر سے مارچ تک مون سون کے موسم کے دوران سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات عام ہیں۔ ماہرین اور ماحولیاتی تنظیموں کے مطابق جنگلات کی کٹائی کے باعث ایسے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ درخت بارش کا پانی جذب کرنے اور زمین کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس شدید بارشوں اور طوفانوں کے نتیجے میں انڈونیشیا میں سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے۔