کوئٹہ:
بلوچستان کے پہاڑی اور شمالی اضلاع اب فریزر میں تبدیل ہو چکے ہیں، شدید سردی کی لہر نے پورے صوبے کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے جہاں پارہ نقطہ انجماد سے کئی ڈگری نیچے گر کر ریکارڈ توڑ رہا ہے۔
زیارت کی وادیوں میں تو گویا برف کا نیا موسم شروع ہو چکا ہے، منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ کر وہاں کی ہوائیں ہڈیوں کو چیر رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، آج سے ایک نیا سلسلہ بارش اور برفباری کا شروع ہو رہا ہے جو صوبے کے بیشتر حصوں کو سفید چادر اوڑھا دے گا۔
کوئٹہ، زیارت، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، چمن، ژوب اور گردونواح میں زبردست برفباری متوقع ہے تو دوسری طرف جنوبی اضلاع چاغی، خاران، پنجگور، تربت، کیچ، آواران اور گوادر میں تیز ہوائیں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
یہ سلسلہ موسم کو اور بھی ڈرامائی بنا دے گا۔ ایک طرف برف کی چمک، دوسری طرف بارش کی آوازیں ریکارڈ شدہ کم سے کم درجہ حرارت جو اب تک کی سردی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
قلات میں پہاڑوں نے سردی کا نیا معیار قائم کر دیا جہاں کم سے کم پارہ منفی 11 ریکارڈ کیا گیا۔ کوئٹہ میں منفی 5 سے شہر کی سڑکیں یخ بستہ اور نلکے جم چکے ہیں۔
چمن میں منفی 2 سے منفی 4، ژوب میں منفی 4، سبی میں 6، تربت میں 9، نوکنڈی میں 2، گوادر میں 10 اور جیوانی میں 11 ریکارڈ ہوا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شمالی بلوچستان میں شدید سردی اور جزوی ابر آلود موسم برقرار رہے گا، جبکہ باقی علاقوں میں سرد اور خشک فضا غالب رہے گی۔ برفباری سے سڑکوں پر پھسلن ہو جائے گی، ٹریفک معطل ہو سکتا ہے اور بالائی علاقوں میں گاڑیاں پھنس جانے کا خطرہ ہے۔
دوسری جانب، کمشنر کوئٹہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ صوبائی حکومت نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ برفباری کے دوران قومی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے جائے۔
واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 25 اور 26 جنوری کو بارش اور برفباری کا امکان ہے۔