کراچی:
سانحہ گل پلازہ میں جان لیوا آتشزدگی کے واقعے کو 9 روز مکمل ہوگئے جس میں جل کر راکھ ہوئے 46 افراد کی تلاش معمہ بن گئی جبکہ اموات کی تعداد 74 تک پہنچ گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق آتشزدگی کے بعد لاپتا افراد کے اہل خانہ کے 69 سیمپلز لیے گئے ہیں، ڈی این اے کے ذریعے مجموعی طور پر 23 افراد کی شناخت مکمل ہوئی ہے باقی 46 افراد کی باقیات کے سیمپلز ناقابل شناخت ہیں۔
ذرائع کے مطابق 46 افراد کی وقوع کے وقت لوکیشن، آخری کال اور دیگر حاصل تفصیل کی مدد سے تلاش جاری ہے، سی پی ایل سی اور پولیس کے درمیان تفصیلی معلومات کا تبادلہ کیا گیا ہے اور تمام 46 افراد کی تفصیلات پولیس کے اعلی حکام کو ارسال کردی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ملبے سے نکالے جانے والی اعضاء کی میڈیکل جانچ بھی جاری ہے۔
پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ کوناقابل شناخت شخص کاڈی این اےرزلٹ موصول ہوا ہے۔ ڈی این اے رزلٹ کے بعد سانحہ میں ہلاکتوں کی تعداد74ہوگئی۔
ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق سندھ فارنزک ڈی این اےلیب سےایک پازیٹیوڈی این اے رزلٹ ملا ہے جسکا تاحال کوئی بھی ریفرنس سیمپل جمع نہیں کروایاگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حاصل کردہ ڈی این اے سیمپل کا ریفرنس سیمپل نا ہونا اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ایسےبھی لوگ گل پلازہ میں جاں بحق ہوئےجن کاکچھ پتہ نہیں یا انکا کوئی وارث سامنے نہیں آیا۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہوسکتاہے ملنے والاڈی این اے شہرسے باہر کےکسی شخص کاہو۔ ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق پولیس سرجن کراچی آفس میں منگل کے روز صبح9سےشام5تک سیمپل جمع کروایاجاسکتاہے، وہ لوگ جنہوں نے اپنے سیمپل جمع نہیں کروائے جلد جمع کروادیں۔
ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق اعضاء سے حاصل کردہ ڈی این اے سے کوئی پہچان عمریا جنس نہیں بتائی جاسکتی شناخت کیلئے ریفرنس ڈی این اے کا ہونا ضروری ہے۔
2 لاپتہ افراد کے ورثا پشاور سے کراچی پہنچ گئے، ڈپٹی کمشنر
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی نے بتایا کہ پشاور سے دو لاپتہ افراد کے ورثا بھی کراچی پہنچ گئے ہیں۔ ان کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں سان اللہ عرفان اللہ اور رحمت اللہ شامل ہیں، جبکہ دونوں افراد کے ورثا کو ڈی این اے سیمپلز کے لیے منگل کے روز سول اسپتال طلب کیا گیا ہے۔
دریں اثنا سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسس راجہ رستم نے میڈیا سے گفت گو میں کہا کہ اب تک 273 ڈمپر ملبے کے اٹھائے گئے، کل لاہور سے فارنزک ٹیم آئی تھی، آج بھی لاہورکی فارنزک ٹیم نے معائنہ کیا، گل پلازہ کی عمارت کو سیل کررہے ہیں، عمارت کے اطراف گرین جالی لگادی ہے، پولیس سٹی وارڈن رینجرز یہاں سیکیورٹی پر مامور ہوں گے، معائنے کے بعد خستہ حال عمارت کو مسمار کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا تو مسمار کریں گے۔
مقدمے کی کاپی منظر عام
سانحہ گل پلازہ کے مقدمے کی کاپی سامنے آگئی، مقدمہ پولیس انسپکٹر نواز علی زرداری کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آتشزدگی کی اطلاع 10 بج کر 30 منٹ پر ملی، دکان نمبر 193 پر واقع نیو توکل فلاور اینڈ گفٹ شاپ نامی دکان پر آگ لگی، گل پلازہ میں آگ بجھانے کے آلات موجود نہیں تھے، عمارت میں ہنگامہ اخراج کے راستے موجود نہیں تھے، آتشزدگی کے دوران گل پلازہ کے بیشتر دروازے بند تھے،
بجلی بند ہونے کے باعث عمارت میں موجود لوگوں کو باہر نکلنے میں مشکل ہوئی۔
سرچنگ کے عمل سے مطمئن نہیں ہیں، دکاندار
ادھر متاثرہ دکانداروں نے بھی انتظامیہ کے دعوؤں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ متاثرہ دکاندار صدیق ترین نے کہا کہ وہ سرچنگ مکمل ہونے کے حوالے سے مطمئن نہیں ہیں اور انتظامیہ نے سرچنگ مکمل ہونے پر انہیں کوئی بریفنگ نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی ملبے میں انسانی اعضاء موجود ہونے کا خدشہ ہے۔