افغانستان؛ طالبان نے 36 افراد کو سرعام کوڑے مارے؛ قید کی سزائیں بھی دیں

کوڑے اور قید کی سزا پانے والوں پر منشیات کے استعمال، غیر اخلاقی تعلقات، چوری اور دھوکہ دہی کے الزامات تھے


ویب ڈیسک January 26, 2026
طالبان نے صوبہ خوست میں 36 افراد کو سرعام کوڑے مارے

افغانستان کے صوبے خوست میں طالبان حکومت کی جانب سے ایک ہی روز کم از کم 36 افراد کو سر عام کوڑے مارے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مختلف جرائم میں گرفتار ان 36 ملزمان کو طالبان کی سپریم کورٹ نے نہ صرف سرعام کوڑے مارنے بلکہ قید کی سزائیں بھی سنائی تھیں۔

جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے آج سرعام سزا پانے والے 36 ملزمان کو جرم کے اعتبار سے 10 سے 39 کوڑے مارے گئے جب کہ انہیں ایک سے 2 سال تک جیل میں بھی رکھا جائے گا۔

طالبان حکام نے بتایا کہ جن ملزمان کو سرعام کوڑے مارے گئے اور قید کی سزا سنائی گئیں ان پر منشیات کے استعمال، غیر اخلاقی تعلقات، چوری اور دیگر جرائم کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔

طالبان کے اعلان کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 17 صوبوں میں کم از کم 140 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے جن میں 8 خواتین بھی شامل ہیں۔

یہ سزائیں زیادہ تر کابل، فاریاب، بلخ، ننگرہار، ہرات، پکتیا، پکتیکا، بدخشاں اور دیگر کئی علاقوں میں دی گئی ہیں۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے بارہا ان سزاؤں پر طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے غیر انسانی قرار دیا ہے۔

طالبان حکومت نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سزائیں جرم کے تدارک کے لیے لازمی اور اسلامی شریعت سمیت افغان روایات سے ہم آہنگ ہیں۔

مقبول خبریں