امریکا کی جانب سے ایران پر بڑے فوجی حملے کے لیے کسی خلیجی ملک کی سرزمین کے استعمال کے امکان پر متحدہ عرب امارات کا ردعمل سامنے آگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ہماری فضائی حدود، زمینی علاقے یا سمندری پانیوں کو ایران پر فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں کسی کو بھی لاجسٹیکل سپورٹ یعنی فوجی سامان، سہولت یا مدد بھی فراہم نہیں کی جائے گی۔
متحدہ عرب امارات نے زور دیا کہ موجودہ بحران کا حل صرف اور صرف کشیدگی میں کمی، مذاکرات، بین الاقوامی قانون کی پابندی اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام میں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے جنگی جہاز بردار طیارہ بردار بحری بیڑے USS Abraham Lincoln کو خلیجی پانیوں میں بھیجا ہے۔
جس کے بارے میں امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بحری بیڑہ خلیج عمان کے قریب پہنچ گیا ہے جو ممکنہ طور پر ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں استعمال ہوگا۔
قبل ازیں امریکی صدر نے خطے میں آرمیڈا بھیجے جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ایران کی صورتحال پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے متنبہ کیا ہے کہ ہماری نگاہیں ہدف اور اگلیاں ٹرگر پر ہیں، بس روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے ایک اشارے کا انتظار ہے۔