پاکستان کی افریقہ سے موجودہ وابستگی ”انگیج افریقہ“ پالیسی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے، عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افریقہ ڈے کے موقع پر اپنی حکومت کی جانب سے نمائندگی میرے لئے باعث اعزاز ہے
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے ”ہیپی افریقہ ڈے“ کے موقع پر افریقی ثقافت، افریقی موسیقی اور افریقی ورثے کی نمائندگی کرنے والی روایات و اقدار کے فروغ کے لئے مشترکہ فورم تشکیل دینے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے لئے افریقہ ڈے مشترکہ تاریخ اور مشترکہ امنگوں کی یاددہانی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں مقامی ہوٹل میں ”ہیپی افریقہ ڈے“ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افریقہ ڈے کے موقع پر اپنی حکومت کی جانب سے نمائندگی میرے لئے باعث اعزاز ہے، یہ دن تنوع، ثقافتی ہم آہنگی اور افریقی براعظم کی عظیم روایات اور اقدار کے اعتراف و جشن کا دن ہے جو افریقی اقوام کے چیلنجز پر قابو پانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ہیپی افریقہ ڈے کے موقع پر اس سال کو ”پانی کا پائیدار سال“ قرار دینے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ ”پانی ہی زندگی ہے“، پانی کی اہمیت کو ہم سے بہتر شاہد ہی کوئی سمجھ سکتا ہو۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ہم وادی سندھ کی تہذیب کے وارث ہیں، دریائے سندھ کے کناروں پر پروان چڑھنے والی تہذیب ہمارے تاریخی اور ثقافتی تشخص کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرہ اپنی شناخت، ثقافت اور اقدار پانی سے اخذ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ”پانی ہی زندگی ہے“ کا تصور ہماری اجتماعی سوچ میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کے لئے افریقہ ڈے کو مشترکہ تاریخ اور مشترکہ امنگوں کی یاددہانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ افریقی ممالک کی طرح پاکستان بھی نوآبادیاتی دور کے تجربے سے گذرا ہے، یہ مشترکہ تاریخی تجربہ پاکستان اور افریقہ کے درمیان دیرینہ دوستی اور یکجہتی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ اپنے عظیم جغرافیے کے ساتھ کسی بھی لحاظ سے کم نہیں، افریقی براعظم حیرت انگیز جغرافیائی تنوع پر مشتمل ہے، سرینگیٹی کے سنہری سوانا، صحارا اور نمیب کے وسیع صحرائی علاقے اور کانگو بیسن کے گھنے سرسبز بارانی جنگلات دنیا کے بہترین مناظر پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افریقہ سے موجودہ وابستگی ”انگیج افریقہ“ پالیسی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے، مصر سے جنوبی افریقہ تک اور سینیگال سے ایتھوپیا تک پاکستان باہمی روابط اور تعاون پر یقین رکھتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے انگیج افریقہ پالیسی کو افریقی ممالک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط اور وسیع کرنے کے عزم کی عکاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان افریقہ کو نہ صرف سفارتی شراکت داری کے طور پر دیکھتا ہے بلکہ اسے اپنی وسیع تر خارجہ پالیسی رسائی کا ایک مرکزی ستون بھی تصور کرتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان نے افریقی براعظم میں اپنے سفارتی نیٹ ورک کو مسلسل وسعت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان تعاون تجارت، تعلیم، استعداد کار میں اضافہ، صحت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں تک پھیلا ہوا ہے جس کا مقصد باہمی فائدہ اور مشترکہ ترقی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے دونوں فریقین کے درمیان ان شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا جو افریقہ اور پاکستان کے مثبت تشخص کی بہتر عکاسی میں مددگار ثابت ہوں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے افریقی ثقافت، افریقی موسیقی اور افریقی ورثے کی نمائندگی کرنے والی روایات و اقدار کے فروغ کے لئے مشترکہ فورم تشکیل دینے کی تجویز پیش کرتے پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلوں میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان افریقی ثقافت، افریقی موسیقی اور ان قدیم افریقی قبائل کے بارے میں مزید جاننا چاہتا ہے جو آج بھی افریقہ کے وسیع خطے میں ہم آہنگی کے ساتھ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ کا آغاز ہو چکا ہے، پاکستان افریقی ٹیموں کی حمایت کرے گا جو کھیلوں کے میدان میں ہمیشہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ا فریقہ نے ثقافت، موسیقی، پانی کے پائیدار استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں اپنی پہچان بنانے کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کے تحفظ اور دنیا بھر میں کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی کوئی زبان نہیں ہوتی، یہ ایک ایسی قدر ہے جسے پوری دنیا میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کھیل ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں، ہم نے برسوں کے دوران دیکھا کہ افریقی کھلاڑی مختلف بین الاقوامی مقابلوں بشمول اولمپکس میں کھیلوں کے میدان پر نمایاں برتری حاصل کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افریقہ آج اپنی تاریخ کے ایک تبدیلی کے مرحلے سے گذر رہا ہے، دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی، تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں، بڑھتی ہوئی اربنائزیشن اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ افریقہ عالمی معیشت کے سب سے متحرک خطوں میں سے ایک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی افریقہ ہے جس کا تصور نیلسن منڈیلا نے پیش کیا تھا، نیلسن منڈیلا نے کہا تھا کہ وہ ایک ایسے افریقہ کا خواب دیکھتے ہیں جو امن اور اپنے مستقبل کے لامحدود امکانات سے پہچانا جائے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ کی کہانی حوصلے اور بلند عزم کی کہانی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس موقع پر تمام افریقی اقوام کو افریقہ ڈے کی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پاکستان اور افریقہ کی دوستی ہمیشہ قائم و دائم رہے گی۔