واشنگٹن/تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک عبوری امن معاہدے (فریم ورک) پر دستخط کے بعد عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی جبکہ ایشیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی ریکارڈ کی گئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 2.3 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ایشیائی تجارت کے دوران برینٹ کروڈ 77.73 ڈالر فی بیرل کے قریب آگیا، جو گزشتہ روز کی سطح کے قریب ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں نے اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور عالمی توانائی سپلائی میں بہتری کی علامت کے طور پر لیا ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوا۔
ادھر ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ جاپان کا نکی 225 انڈیکس اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔ جاپان کی مارکیٹ میں 2 فیصد سے زائد جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں تقریباً 1.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تائیوان کا ٹائیکس انڈیکس بھی 1.3 فیصد تک بڑھ گیا۔
تاہم ہانگ کانگ کی ہینگ سینگ مارکیٹ اس رجحان سے مستثنیٰ رہی اور اس میں تقریباً 1.7 فیصد کمی دیکھی گئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس بات پر خوش ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت توقعات سے پہلے طے پا گئی، جس سے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کم ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولے گا جبکہ امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ جنگ اور کشیدگی کے باعث یہاں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی تھی جس کے نتیجے میں عالمی منڈی کو روزانہ تقریباً 14 ملین بیرل تیل کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
اگرچہ معاہدے کے بعد مارکیٹوں میں مثبت ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج میں پھنسے سینکڑوں جہازوں کی روانگی، سمندری راستوں کی صفائی اور سکیورٹی انتظامات کی بحالی میں وقت لگے گا۔
عالمی شپنگ تنظیموں نے بھی خبردار کیا ہے کہ صورتحال اب بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوئی اور جہاز مالکان کو سفر شروع کرنے سے پہلے مکمل خطرات کا جائزہ لینا چاہیے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد جاری رہا تو آنے والے ہفتوں میں تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور اسٹاک مارکیٹوں پر اس کے مزید مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔