سعیدہ خاتون سابقہ مشرقی پاکستان میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھیں، 1971ء میں ان کا خاندان خانہ جنگی سے متاثر ہوا۔ سعیدہ خاتون اپنے بیٹے ایان کو لے کر کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں آباد ہوگئیں۔ سعیدہ خاتون نے حیدری کے علاقے میں چلڈرن ڈے کیئر سینٹر میں ملازمت کرلی۔اس کو روزانہ 8 گھنٹے مسلسل کام کے بعد مہینے کے آخر میں 2 ہزار 500 روپے ملتے تھے۔
اس نے مسلسل 10 سال تک کام کیا تو مالکان نے 1 ہزار کا اضافہ کیا۔ سعیدہ خاتون کو اس رقم سے زندگی کے تمام مصارف پورے کرنے پڑتے تھے جس میں جھونپڑی کا کرایہ بھی شامل تھا۔ پھر یہ تنخواہ 3 ہزار 500 روپے ہوگئی، چونکہ روزگار کا کوئی دوسرا وسیلہ نہیں تھا اس بناء پر اسی روزگار سے منسلک رہی۔ سعیدہ خاتون کا بیٹا ایان علی جب چھٹی کلاس میں پہنچا تو اس نے کام کی تلاش شروع کردی۔ ان کے محلے کے کئی نوجوان بلدیہ ٹاؤن میں قائم علی انٹرپرائزز میں کام کرتے تھے، یوں ایان علی 14 سال کی عمر میں علی انٹرپرائززمیں کام کرنے لگا۔ اس فیکٹری میں 600 افراد کام کرتے تھے جس میں لڑکیاں بھی شامل تھیں۔
11 ستمبر 2011ء کا سیاہ دن آیا، فیکٹری میں آگ لگ گئی۔ اس فیکٹری کی کھڑکیاں ویلڈنگ سے بند کردی گئی تھیں اور واپس جانے کا شاید ایک ہی راستہ تھا۔ یہ فیکٹری کئی منزلہ تھی، حتیٰ کہ تہہ خانے میں بھی مزدور مشینوں پر کام کرتے تھے، سارے مزدور آگ میں گھرگئے۔ اس فیکٹری میں آگ بجھانے کا جدید نظام موجود نہیں تھا۔ فائر بریگیڈ کا نظام بھی ناقص تھا اور آج بھی ناقص ہے، یوں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بہت دیر سے پہنچیں۔ پھر ان گاڑیوں کا پانی ختم ہوگیا تھا۔ فائر بریگیڈ والوں کے پاس دیوار توڑنے کے آلات بھی نہیں تھے اور نہ ہی ان کے پاس آکسیجن ماسک تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بلدیہ فیکٹری کی آگ پر تین دن بعد قابو پایا گیا۔ کچھ لوگ کھڑکیاں توڑ کر عمارت سے باہر کودنے میں کامیاب ہوئے۔ اس آتشزدگی میں 260 افراد جاں بحق ہوئے۔
سعیدہ خاتون تین دن تک ایان کی لاش مختلف اسپتالوں میں تلاش کرتی رہی، آخرکار انھوں نے ایان کی لاش شناخت کرلی۔ اس دن سعیدہ کے محلے میں ایک کہرام تھا۔ ہر گھر میں کسی فرد کی لاش آئی تھی، انتقال کے وقت ایان کی عمر 18 سال تھی۔ ایان نے کچھ دن قبل ماں کو بتایا تھا کہ وہ عید کے بعد کام چھوڑ دے گا اور نویں جماعت کا امتحان دے گا۔ ایان نے حادثے سے پہلے شام 4:30 بجے اپنی ماں کو یہ ایس ایم ایس کیا کہ آج تنخواہ نہیں ملی۔
اس حادثے نے سعیدہ خاتون کی زندگی تبدیل کردی۔ ایان کبھی فیکٹری سے واپس آکر پوچھتا تھا کہ’’ آج کیا پکایا ہے ۔‘‘ سعیدہ خاتون نے حادثہ کے دن سے لے کر مرتے دم تک اپنے باورچی خانہ میں کھانا نہیں تیار کیا۔ سعیدہ خاتون نے پھر اس سانحے کے ذمے دار افراد کو سزا دلوانے اور مرنے والے مزدوروں کے معاوضہ کے لیے جدوجہد شروع کردی۔ وہ کبھی کسی ڈپارٹمنٹ کے چکر لگاتی تو کبھی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے لیے پہنچ جاتی، کبھی افسران انھیں اسلام آباد کا راستہ دکھاتے اور کہتے کہ کراچی میں یہ مسائل حل نہیں ہونگے۔
ایک ڈیڑھ سال بعد نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن N.T.U.F کے روحِ رواں کامریڈ ناصر منصور اور H.B.W.W.F کی ہونہار رہنما زہرہ خان سے ملاقات ہوئی، یوں ایک منظم جدوجہد کا آغاز ہوا۔ بلدیہ فیکٹری کے متاثرین کی ایک کمیٹی بنائی اور اس کی پہلی چیئرپرسن منتخب ہوئیں۔ انھیں قتل کرنے کی دھمکی دی گئی۔ دو افراد ان کے گھر آئے اور دو تین گھنٹوں تک زبانی گفتگو کرتے رہے تاکہ وہ احتجاجی مظاہرے میں شرکت نہ کرسکیں۔ کچھ سیاسی اور لسانی تنظیموں کے رہنماؤں نے انھیں ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی، اچانک رات کو ان کے دروازے زور سے کھٹکھٹائے جاتے اور کہیں سے پتھر ٹین کی چھت پر گرنے لگے۔ اس صورتحال میں انھیں اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔
ناصر منصور کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم نے اس فیکٹری کے 105 ورکرز اور متاثرین کے انٹرویوز کیے۔ تمام کارکنوں کا کہنا تھا کہ آگ فیکٹری کے اندر سے لگی تھی۔ ایک ماہ قبل جب فیکٹری میں ایسا ہی حادثہ ہوا تھا تو مالکان نے یہ ہدایت دی تھی کہ پہلے مال اور مشینیں نکالیں پھر مزدوروں کو جانے دیا جائے، فیکٹری میں کوئی الارم نہیں تھا۔ ایک منزل پر ایک مچان بنا ہوا تھا جس پر 150 سے 200 کارکن کام کرتے تھے۔ فیکٹری میں نصب بوائلر پھٹ گئے جس سے تہہ خانہ میں موجود مزدور جان سے گئے۔ ناصر منصور کا یہ بیانیہ تھا کہ فیکٹری کے دروازے بند تھے۔
فیکٹری میں باہر سے آگ نہیں لگائی گئی۔ تحقیقات سے یہ ظاہر ہوا کہ فیکٹری کے ایک حصہ سے آگ 45 منٹ بعد دوسرے حصے تک پہنچی تھی، اگر فیکٹری میں آگ بجھانے کا انتظام ہوتا اور متبادل راستے ہوتے تو کئی زندگیاں بچ سکتی تھیں۔ اس کمیٹی نے پاکستان میں مالکان ، لیبر ڈپارٹمنٹ، فائر بریگیڈ ، ای او بی آئی اور سوشل سیکیورٹی کے خلاف مقدمات کیے۔ اس فیکٹری کا مال جرمنی کی ایک فرم خریدتی تھی، یوں ناصر، سعیدہ خاتون اور زہرا خان نے جرمنی میں مقدمات دائر کیے۔ جرمنی میں اس وقت ایسا قانون نہیں تھا کہ جرمنی کی کوئی فرم دوسرے ملک میں مزدوروں کو کوئی ادائیگی کرے، یوں یہ مقدمہ خارج ہوا مگر جرمنی میں بائیں بازو کی مزدور تنظیموں نے جرمنی میں رائے عامہ ہموار کرنا شروع کی۔
اس وقت جرمنی میں دائیں بازو کی جماعت کی حکومت تھی۔ جرمن فرم نے یہ سرٹیفکیٹ دیا تھا کہ یہ اس فیکٹری میں قوانین کے مطابق کام ہوتا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ غلط جاری کیا گیا تھا۔ پھر برطانیہ کی ایک لیب سے یہ سرٹیفکیٹ جاری ہوا کہ فیکٹری میں آگ لگنے کے 45 منٹ بعد دوسرے حصے تک پہنچی تھی۔ سعیدہ خاتون جرمنی گئیں۔ انھوں نے پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ مزدور تنظیموں کے عہدیداروں سے ملاقات کی، یوں جرمنی کی حکومت کو ایک قانون بنانا پڑا۔ اس قانون کے تحت جرمن کمپنی دنیا کے کسی بھی حصے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث ہوتی ہے اور اس فیکٹری کا مال جرمنی میں فروخت ہوتا ہے ، اس کمپنی کو متعلقہ ملک کی اس فیکٹری میں بنیادی قوانین پر عملدرآمد پر نظر رکھنی ہوگی۔
یوں عالمی ادارئہ محنت کا جرمن فرم کے ساتھ معاہدہ ہوا اور معاوضہ کا طریقہ کار طے ہوا مگر جب جرمنی میں تاریخی فیصلہ ہوا تو سعیدہ خاتون کراچی کے ایک اسپتال میں کینسر کے خلاف جنگ لڑرہی تھی مگر کچھ دنوں بعد وہ انتقال کرگئیں۔ ناصر منصور کہتے ہیں کہ پہلے سعیدہ خاتون برقعہ پہنتی تھیں اور بہت کم بات کرتی تھیں مگر بیٹے کی موت کے بعد ان کی زندگی میں تبدیلی آئی۔ وہ متحرک ہوگئیں، کارکنوں کے اجلاسوں میں جانے لگیں اور افسروں کے دفاتر میں جاکر انھوں نے بحث و مباحثہ شروع کردیا، حتیٰ کہ جرمنی جاکر بھی انھوں نے اپنا نکتہ نظر بہت واضح اور سادہ الفاظ میں بیان کیا۔ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن نے اپنے نئے دفتر کا ایک ہال سعیدہ خاتون سے منسوب کیا ہے۔ ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے گزشتہ ہفتہ اس ہال کا افتتاح کیا، یہ ہال ہمیشہ سعیدہ خاتون کی قربانیوں کی یاد دلاتا رہے گا۔
عدالت نے گزشتہ ہفتے اپنے ایک فیصلے میں ایم کیو ایم کے دو کارکنوں کو جنھیں اس مقدمے میں سزائے موت ہوئی تھی کو بری کردیا۔ ناصر منصور کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ٹریڈ یونین کا یہ موقف درست ثابت ہوگیا کہ آگ باہر سے نہیں اندر سے لگی تھی ۔ کراچی اور ملک بھر کی فیکٹریوں میں مزدوروں کے تحفظ، فیکٹریوں میں حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق انتظامات اور فائر سیفٹی کے جدید آلات و نظام دستیاب نہیں مگر سرکاری اہلکار ہر فیکٹری جاتے ہیں’’بخشش‘‘‘ حاصل کرتے ہیں ، اگر بلدیہ فیکٹری میں آگ لگنے کی وجوہات ظاہر کرتے ہوئے ان وجوہات کی تلافی کے لیے اقدامات کیے جاتے تو پھر گل پلازہ جیسا سانحہ نہیں ہوتا۔ بہرحال المیہ یہ ہے کہ سعیدہ خاتون کو مکمل انصاف نہیں مل سکا۔