اندازِ حکمرانی کیسا ہونا چاہیے! اس پر صدیوں سے جاندار بحث جاری ہے۔اس اہم ترین نکتے پر یونانی مفکروں سے لے کر ہندوستانی ‘ یورپین اور مسلمان فلسفیوں نے سیر حاصل محنت کی ہے۔ اگر آپ Philospher Kingکا غور سے مطالعہ کریں ‘تو افلاطون نے خوب کہا ہے کہ بادشاہ کو بیک وقت سیاست اور فلسفہ کا محور ہونا چاہیے۔ بالکل درست لکھا ہے۔ مگر کیا ایسا کبھی ہوا ہے؟ یا ممکن ہے؟ اس پیچیدہ سوال کا کوئی آسان جواب نہیں ہے۔اسی طرح مسلمان فلسفیوں کو پڑھیے ۔ تو الفارابی کا المدینتہ الفضیلہ حد درجہ اعلیٰ سطح کی علمی بحث ہے۔ ابن رشد نے بھی حکمرانوں کو اعتدال اور میرٹ پر قائم رہنے کا درس دیا ہے۔
ہندو فلسفی‘ چانکیہ اور اس کے بعد لکھی گئی میکاولی کی کتاب’’The prince‘‘ بہر حال‘ اخلاقیات کو حکمرانی سے جدا کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تیسرے درجے کے ممالک میں ان غیر اخلاقی کلیات پر پیہم عمل ہوتا رہا ہے اور شاید آج بھی رواں ہے۔ اگر سکہ بند فلسفیوں اور دانشوروں سے فیض اٹھائیں تو ہمیں کافی کچھ تو معلوم ہو جاتا ہے۔ مگر اصل عقدہ حل نہیں ہو پاتا کہ ان کے ذہن کے مطابق‘فلسفی بادشاہ بالآخر‘ کیسے اور کہاں سے لایا جائے؟ بادشاہت یا حکمرانی کے تقاضے بہرحال فلسفہ اور اعلیٰ خیالات کے مطابق حل کرنا حد درجہ مشکل عمل نظر آتا ہے۔ ناممکن تو خیر نہیں ہے ۔ مگر انسانوں کی لکھی ہوئی تاریخ میں ایسا محیر العقول واقعہ کم ہی نظر آیا ہے۔ یورپ نے بہرحال اس فکر کو کمال محنت‘ ریاضت اور قربانی سے ترویج دی ہے۔
موجودہ سیاسی فکر‘ جدید فرانسیسی اور برطانوی فلسفیوں سے کشید ہوئی تھی۔ چرچ کے تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے لیے لاکھوں لوگوں نے باقاعدہ جان کی قربانی دی۔ تب جا کر‘ حکومت اور مذہب کے درمیان فرق ممکن ہوا۔ اس ندی سے‘ انسانی حقوق‘ جمہور‘ ووٹ‘ قانون کی بالادستی جیسے عظیم سوتے پھوٹ پائے۔ مگر یہ فکری اور عملی جدوجہد کا عمل‘ یورپ اور شمالی امریکا تک ہی محدود رہا ۔ یہ بہت بڑی بدقسمتی ہے۔ کیونکہ صنعتی انقلاب بھی اسی خطے میں برپا ہوا۔ الیکشن کے ذریعے‘ اپنے رہنما چننے کے عمل کو تقدس حاصل ہوا۔ اس کے بالکل متضاد گزشتہ سات سو سالوں میں مسلمانوں میں کوئی فکری انقلاب‘ کسی سطح پر بھی برپا نہ ہو پایا۔
مذہب اور حکومت کی عملی علیحدگی متعدد وجوہات کی بدولت‘ رونما ہی نہیں ہو سکی ۔ آج بھی یہ ممکن نہیں ہے ۔ بلکہ اس کے بالکل متضاد‘ مسلمان ممالک نے جدت اور جمہوری رویے اپنانے سے انکار کر ڈالا ہے۔ پورا مشرق وسطیٰ‘ محظ چند خاندانوں کا غلام ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے دور کے حکمرانوں کو‘ برطانیہ اور فرانس نے‘ صرف اور صرف اپنے تابع رکھنے کے لیے بادشاہت عطا کر دی۔ یہ کیونکر ممکن ہوا؟ اس کے حقائق بہت دلخراش ہیں۔ ان کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتاہے۔
برصغیر میں حکمرانی کا معاملہ اور بھی مشکل ہو گیا۔ یہاں‘ قانون کی حکمرانی‘ کمزوروں کے حقوق کی حفاظت ‘ انسانی حقوق کی بالادستی کا کسی قسم کا کوئی تصور موجود ہی نہیں تھا۔ بادشاہ‘ شہنشاہ ‘ راجے ‘ مہاراجے ہزاروں برس سے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ برطانوی استعمار سے پہلے عام آدمی کی عمومی حالت کسی طرح بھی بہتر نہیں کہی جا سکتی۔ جب تاج برطانیہ نے باقاعدگی سے ہندوستان میں عنان حکومت سنبھالی۔ تو برطانیہ میں جمہوریت مکمل طور پر فعال ہو چکی تھی۔ بلکہ تاریخی اعتبار سے برطانیہ وہ پہلا ملک تھا۔ جس نے دوسرے ممالک کے لیے بھی جدید حکمرانی کے بہتر دور کا آغاز کیا۔ برصغیر میں مغربی تعلیم کو مسلمان مذہبی رہنماؤں نے اپنے مزاج کے خلاف قرار دے ڈالا۔ اس کے بالکل الٹ ‘ ہندوؤں نے مغربی تعلیم پر حد درجہ توجہ دی۔ ان پر ترقی کے تمام راستے کھل گئے۔
مسلمانوں کی قلیل تعداد ‘ علی گڑھ کالج اور پھر یونیورسٹی میں داخل ہو گئی۔ یہ ایک مثبت قدم تھا۔ معددوے چند لوگ‘ مغربی یونیورسٹیوں میں حصول علم کے لیے روانہ ہو گئے۔ اقبال‘ محمد علی جناح ‘ گاندھی ‘ نہرو اور محمد علی جوہر ان ہی میں شامل تھے ۔ مگر یہاں ایک عجیب سا تضاد پیدا ہو گیا۔ ان کے سیاسی افکار کافی حد تک ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ اقبال اور جناح کے درمیان بہر حال ایک ہم آہنگی کافی حد تک موجود نظر آتی ہے۔ محمد علی جوہر‘ آکسفورڈ میں پڑھنے کے باوجود ‘ مسلمانوں میں جمہوریت کی داغ بیل نہ ڈال سکے۔ تحریک خلافت میں تو محمد علی جناح اور جوہر برادران میں وسیع خلیج موجود تھی۔ قصہ کوتاہ یہ کہ جدید طرز حکمرانی اور صدیوں سے جڑے ہوئے مغلوب سوچ میں کسی قسم کی یکسانیت پیدا نہ ہو سکی۔
1947ء کے بعد بھی یہ معاملہ الجھا رہا۔ جمہوریت پسندی کا کسی قسم کا حکومتی ثبوت سامنے نہ آ پایا۔ محتاط طرز پر گزارشات پیش کر رہا ہوں۔ 1947ء سے لے کر آج تک ہم‘ نظام حکمرانی میں Push and Pull کے کلیہ کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہاں ایک دقیق مسئلہ ابھر کر سامنے آیا۔ ہمارا حکمران کون ہو گا؟ یہ عرض نہیں کر رہا کہ کیا ہونا چاہیے۔ اس گنجلک میں‘ اختیار اور فیصلہ سازی ‘ اس طبقہ کے پاس چلی گئی‘ جن کے پاس ادارہ جاتی طاقت موجود تھی۔ ایوب خان سے لے کر آج تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو پایا۔
مگر ایک عنصر ایسا درمیان میں آ گیا جس نے صورت حال کو ندرونی طور پر بہت حد تک تبدیل کر دیا۔ وہ تھا کہ‘ جدید تعلیم بہر حال ملک کے ہر کونے میں پھیل گئی۔ اس کی ساخت اور کوالٹی پر بات نہیں کر رہا۔ مگر‘ کسی نہ کسی طور پر ‘ مغربی علوم ‘کالج‘ اسکول اور جامعات کے ذریعے سماج میں سرایت کر گئے۔ اس کے مقابلے میں‘ مذہبی سوچ‘ مدارس میں پلی بڑھی ضرور ‘ مگر تخت پر کبھی قابض نہ ہو سکی۔ اسے زیادہ سے زیادہ Peripheral factor کا نام دیا جا سکتا ہے۔
جمہوریت کا بیج کبھی تن آور درخت بننے نہیں دیا گیا۔ گزشتہ چند برسوں میں‘ ایک ٹیکنیکل معجزہ برپا ہو گیا۔ جس کے متعلق بیس بچیس برس پہلے تصور بھی نہیں کیاجا سکتا ہے۔ اور وہ ہے انٹرنیٹ اور سیل فون کا ملاپ۔ پوری دنیا سکڑ کر ہر پاکستانی کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔ کونگو میں جنگ ہو‘ یا امریکا کے الیکشن ہوں‘ اٹلی کی خاتون سربراہ کا اسرائیل کے خلاف کھڑے ہونا ہو‘ یا دنیا میں کسی بھی خطے میں کچھ بھی برپا ہو۔ وہ ہر شہری کو بروقت معلوم ہوتا چلا گیا۔ اس نایاب عنصر نے ہر عمر کے طبقوں کو متاثر کیا۔ عام نوجوانوں ‘ خواتین اور دیگر لوگوں کو مختلف ممالک سے اپنے ملک کا تقابلی جائزہ ملنا شروع ہو گیا۔ سوشل میڈیا‘ دراصل پوری دنیا میں ایک ایسی نئی جہت پیدا کر چکا ہے ۔ جس کو کسی صورت میں بھی بدلا نہیں جا سکتا۔ اور نہ ہی اسے دبایا جا سکتا ہے۔
اس حد درجہ انقلابی تبدیلی کو ہمارے معاشرے نے تو اپنا لیا۔ مگر مقتدر‘ طبقے نے اس فکر کو شروع میں اتنی اہمیت نہیں دی۔ سیاسی عناصر میں کچھ نے ایک بوسیدہ سیاسی نظام کو جدید رائے عامہ کے حساب سے سوشل میڈیا کے ذریعے ترتیب دینے کی معمولی سی کوشش کی۔ مگر یہ سیاسی لوگ اپنے خیالات کوطرز نو پر مرتب کرنے سے قاصر رہے۔ اس کشمکش نے پرانے پاوراسٹرکچر کو ایک نیا انداز دے ڈالا۔ اور وہ ہے ‘ ہائبرڈ نظام‘ یعنی حکومتی فیصلے کہیں اور ہونگے اور بیان کرنے والا چہرہ بالکل کوئی اور ہو گا۔ موجودہ حالات میں یہ طرز حکمرانی کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ مثبت یا منفی ردعمل کی بابت قطعاً عرض نہیں کروں گا کیونکہ مقصد یہ نہیں ہے۔
یہ ہائبرڈ نظام‘ مستقبل میں تبدیل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ یہ ایک جزوی سوچ نہیں ۔ بلکہ حکمرانی کے طرز پر ایک نیا تجربہ ہے۔ جو ابھی تک کافی حد تک کامیاب ہے۔ مگر ابھی اس چلن کا رد عمل مکمل طور پر سامنے نہیں آپایا۔ لوگوں کے اندرونی جذبات بہر حال مفنی طرز کے ہیں۔ ذرا سوچیے! عملیت کی دنیا میں آئیے۔ کیا‘ احتجاج اور عوامی رائے عامہ سے سیاسی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔؟ آج تک کے معروضی حالات کے مطابق اس کا جواب نفی میں ہے۔ ہو سکتا ہے‘ کل تک معاملات بدل جائیں۔ تو یقیناً جواب بھی بدل جائے گا۔ سیاست میں راستے بنائے جاتے ہیں۔ عملیت پسندی کو طرز عمل کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ مگر یہ صرف میرے جیسے طالب علم کی خواہش ہے! حق حکمرانی کا گھمبیر مسئلہ ہم ماضی کی طرح آج بھی حل نہیں کر پائے؟