موت کے منہ میں جاتی شہزادی کی بے بسی

ناروے یورپ ہی کا نہیں بلکہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے


سید طارق حسنی June 21, 2026

ڈاکٹروں نے دو ہزار اٹھارہ میں ہی اس کے پھیپھڑوں کی بیماری کی تشخیص کر لی تھی۔ علاج جاری رہا، مگر کوئی افاقہ نہ ہو سکا۔ آخرکار ڈاکٹروں نے کہہ ہی دیا کہ اب زندگی کی واحد امید پھیپھڑوں کی پیوندکاری ہے۔

یہ بات کہنا بہت آسان ہے، مگر اس پر عمل درآمد جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، کیونکہ ٹرانسپلانٹ تب ہی ممکن ہے جب کوئی انسانی پھیپھڑا میسر ہو۔ جی ہاں، آپ درست سن رہے ہیں۔وہ اہم ترین انسانی عضو، جس سے ہر جاندار سانس لیتا ہے اور جس کے بغیر زندگی رک جاتی ہے اور سانس رکنے کا مطلب موت ہے۔

یہ کسی بھی انسان کے لیے کوئی آسان صورتحال نہیں،یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ شدید اور ناقابل بیان تکلیف نہ صرف مریض کے لیے ہے، بلکہ اس کے گھر والوں کے لیے بھی۔ طویل انتظار کے بعد، آخر کار وہ دن آیا کہ ایک متوفی کا پھیپھڑا مریض کو لگا دیا گیا۔

کیا آپ اس کیفیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں جب مریض کو بتایا گیا ہوگا کہ اب آپ سرجری کے لیے تیار ہو جائیں، کل وہ دن ہے جس کا آپ کو شدت سے انتظار تھا۔ اس خبر کی خوشی کا احساس کوئی صحت مند انسان نہیں کر سکتا، وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک دوسری تخیلاتی صورتحال پر نظر ڈالنی ہوگی۔

ذرا تصور میں لائیں کہ ایک سزائے موت کا قیدی، جس کے منہ پر کالا کپڑا باندھ دیا گیا ہو اور گلے میں پھانسی کا پھندا ڈالا جا چکا ہو، جلاد اپنے بے رحم اور سخت کھردرے ہاتھوں سے رسی کو اس کے گلے پر سختی سے کس رہا ہو۔

مجرم کو سانسیں رکتی محسوس ہورہی ہوں اور انجام بالکل سامنے ہو، وہ اپنے آخری لمحات میں اپنی بیتی ہوئی زندگی کی فلم کے مناظر دیکھ رہا ہو، اسے اپنے معصوم اور چھوٹے بچوں کے معصوم چہرے یاد آ رہے ہوں اور بے بس ہو اور خاموش۔ بس زندگی کا یہ کھیل ختم ہونے والا ہے۔

اچانک، اس المناک اور سرد لمحے میں، کوئی کہنے والا آواز لگائے اور کہے ،آپ کی سزا معطل کر دی گئی، آپ کو معاف کر دیا گیا۔ آپ کو زندگی بخش دی گئی ، جاؤ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ زندگی گزارو۔ زندگی سے آپ ناامید ہو چکے تھے، اس سزائے موت کے قیدی کی کیفیت کیسی ہوگی، اس کا اندازہ ہم میں سے کوئی نہیں لگا سکتا ، مگر کچھ ایسی ہی کیفیت اس مریض کی بھی رہی ہوگی۔

ایک عام انسان بھی اپنے خاندان کے کسی فرد کی ایسی حالت میں اپنا سارا مال و دولت لٹا کر اپنے جگر گوشے کو بچانا چاہتا ہے، اس کی زندگی واپس لانا چاہتا ہے، لیکن یہ کون بے بس، غریب مسکین، بے یارومددگار اور لاچار تھا جو اپنے لیے زندگی کی خیرات کا متمنی تھا؟ کیا بھری دنیا میں وہ اکیلا تھا؟ کوئی اس کا چاہنے والا نہ تھا؟

ذرا توقف کیجیے، میں آپ کو بتاتا ہوں۔ آپ کے کانوں کو یقین نہیں آئے گا۔ جس مریض کی جان بچائی گئی وہ کوئی اور نہیں ، ناروے کے ولی عہد ہاکن میگنس کی بیوی، باون سالہ میٹ میریٹ تھی، جسے مستقبل میں ناروے کی ملکہ بننا تھا، یہی وہ مریضہ ہیں جن کی یہ سرجری چند دن قبل ہی ہوئی ہے اور جنہیں نئی زندگی نصیب ہوئی۔

شہزادی نے یہ عذاب کیوں جھیلا؟ کیوں تکلیف دہ انتظار کی گھڑیوں سے گزریں؟ آئیں بتاتے ہیں۔ناروے میں اعضاء کی پیوند کاری کے قوانین بہت سخت ہیں۔ ایسے مریضوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے جب تک کہ انھیں کوئی مناسب ڈونر نہ مل جائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ طبی ادارے مریض کی بیماری کی شدت اور نوعیت کے حساب سے ترجیح کا تعین کرتے ہیں، سب سے زیادہ مستحق وہ مریض ہے جو وینٹی لیٹر پر ہو اور پھر اس کے بعد دیگر مریضوں کی باری آتی ہے۔

اب سوچیں،ایک ملکہ بننے والی خاتون کے لیے کیا بڑی بات تھی کہ قانون کا ذرا سا بازو موڑ دیا جائے، ڈاکٹر ز رپورٹیں ایسے تشکیل دیں کہ اس کا نام ٹرانسپلانٹ کی سب سے زیادہ ترجیح والی فہرست میں ڈال دیا جائے،حالانکہ وہ اس کی مستحق نہ ہو۔

چونکہ آپ شاہی خاندان سے ہیں، آپ عام انسان سے مختلف ہیں۔ آپ کے پاس زیادہ طاقت ہے، زیادہ پیسہ ہے، تو آپ کو ترجیحی لسٹ کے دسویں نمبر سے اٹھا کر پہلے نمبر پر کر دیا جائے اور فوری سرجری ہو جائے۔ کوئی اور ملک ہوتا تو یہ شاید ممکن تھا مگر ناروے میں نہیں۔

مگر نہیں، ایسا نہیں کیا گیا۔ ولی عہد شہزادی کو ایک عام مریض کی طرح طویل انتظار کرنا پڑا، جسکا ہر ہر لمحہ اورہر گھنٹہ بھاری، مگر کوئی ترجیحی سلوک نہیں کیا گیا۔ ان کی سرجری تبھی ممکن ہوئی جب قانون اور اصول کے مطابق ان کی باری آئی یعنی میرٹ پر، یہی نہیں، بلکہ اوسلو یونیورسٹی کے جس اسپتال میں یہ سرجری کی گئی، وہاں شہزادی صاحبہ کو عام دیگر مریضوں کے ساتھ کئی ہفتے گزارنے پڑیں گے، تاکہ ڈاکٹر ان کی صحت کا خیال رکھ سکیں۔ ناروے میں طبی سہولیات ایک عام نارویجن شہری کے لیے، چاہے وہ ماہانہ دو سو ڈالر ہی کیوں نہ کماتا ہو اور مستقبل کی ملکہ کے لیے یکساں ہیں اور ڈاکٹروں کی توجہ اور انہماک بھی۔

یاد دہانی کے لیے بتاتا چلوں کہ ناروے یورپ ہی کا نہیں بلکہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے، جس کی جی ڈی پی پانچ سو پچاسی ارب ڈالر ہے، فی کس آمدنی ایک لاکھ سات ہزار ڈالر ہے اور یہ یورپ کا سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اورجس کی سرکاری دولت دو ٹریلین ڈالر سے زائد ہے اور یہ کوئی عام عورت کی نہیں وہاں کی ہونے والی ملکہ کی آپ بیتی ہے۔

یہی نہیں، مزید ایک حیران کن خبر یہ ہے کہ شہزادی صاحبہ کے انتیس سالہ صاحبزادے، شہزادہ میریس ہوگ لوبی، جو دو خواتین پر جنسی حملوں کے جرم میں چار سال قید کاٹ رہے ہیں، انھوں نے عدالت سے اپنی ماں کی تیمارداری کے لیے پیرول پر رہائی کی درخواست کی جسے عدالت نے فوری مسترد کر دیا۔ ہیں نہ یہ تینوں باتیں اس دنیا سے باہر کی؟ کم از کم ہماری دنیا میں تو ہم نے ایسا نہ دیکھا، نہ سنا۔

سوچتا ہوں، کون لوگ ہیں یہ؟ یہ کہاں سے آئے ہیں؟ ہمیں کیوں نہیں دکھتے؟کیا ہمارے نصیب میں صرف بے انصافی لکھی ہوئی ہے؟ امیر غریب کا اتنا بڑا فرق۔ اور ہم سے ہماری دولت اور تعلقات پر منحصر اچھا اور برا رویہ۔

کیوں ہمارے ملک میں ایک غریب ہاری کی بیوی بہترین علاج کی مستحق نہیں ٹھہرتی؟ کیا وہ بھی اس شاہانہ اسپتال میں اپنا علاج کروا پائے گی، جہاں ہمارے امرا، وزراء اور جرنیل علاج کراتے ہیں؟ کہ کوئی بڑا شخص اس طرح قانون کے اصولوں کے تحت اپنی جان بچانے کے لیے اتنا طویل اور تکلیف دہ انتظار کرے؟ قانون ایسا ہو کہ اس کے آگے سب بے بس ہوجائیں۔ سرکاری حیثیت کو استعمال کرنے کے قابل ہی نہ ہو۔ کوئی گنجائش ہی نہ رکھا گیا ہو کوئی استثنیٰ ہی نہ ہو۔ کیا ایسا ہمارے ملک میں ممکن ہے اگر آپ کے علم میں ہو تو مجھے بھی بتائیے۔