محرم الحرام کی تاریخی اہمیت

یکم محرم الحرام حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کا بھی دن ہے


نسیم انجم June 21, 2026

امت مسلمہ ہر سال کی طرح اس سال بھی روایتی انداز میں نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت امام حسینؓ کی شہادت کو یاد کرے گی۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے 72 ساتھیوں نے دین کی بقا کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

قتل حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

تاکہ حضرت محمد ﷺ کے امتی حق اور باطل میں فرق رکھ سکیں اور اقتدار کے لیے ناحق کسی کا خون نہ بہائیں، ظالم کے سامنے جھکیں نہ بکیں، یہ ایک سبق تھا۔ سانحہ کربلا اسلام کا ایک عظیم واقعہ ہے اور آمریت کے خلاف نظریاتی انقلاب اور اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے۔

اس جنگ کا پس منظر یہ ہے ، یہ واقعہ 61 ہجری میں پیش آیا۔ آپؓ نے محض یزید کی بیعت کرنے سے اس لیے انکار کیا کیونکہ یزید کی حکومت اسلامی تعلیمات کے منافی تھی۔ حضرت امام حسین ؓ نے فرمایا:

’’مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔‘‘

تاریخ اسلام میں دو محرم الحرام سے دس محرم تک کے ایام حضرت حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کے لیے سخت ترین دن تھے۔ آپؓ کا قافلہ کربلا پہنچا، یزیدی لشکر نے جس کی تعداد ہزاروں میں تھی حضرت حسینؓ کے قافلے کو اپنے حصار میں لے لیا۔

7 محرم سے اہل بیت اور ان کے ساتھیوں کو پانی سے محروم رکھا گیا، ان کڑے حالات میں بھی حضرت امام حسینؓ اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔

10 محرم الحرام یومِ عاشورکو حق و باطل کا یہ معرکہ اپنے انجام کو پہنچا۔ آپؓ اور آپ کے اہل خانہ اور ساتھیوں کی شہادت کے بعد امام حسینؓ خود میدان میں آئے اور نانا کے دین کو بچانے اور باطل کے سامنے سرنگوں نہ ہونے کی وجہ سے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آخر کار شہادت کا تاج سر پر سجا کر اسلام کو سرخرو کر دیا۔

یکم محرم الحرام حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کا بھی دن ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنی زندگی میں ہی حضرت عمرؓ کو خلافت کے لیے نامزد کردیا تھا۔

حضرت عمر فاروقؓ کا دور زریں دور تھا۔ انصاف کی بالادستی، فتوحات، خوشی اور خوشحالی، غریب و امیر سب برابر اور حقوق یکساں تھے۔ آپؓ نے غلام اور آقا میں ذرہ برابر فرق رہنے نہ دیا۔ ایک موقع پر جب قادسیہ کی جنگ چھڑی تو آپؓ ان دنوں بے حد بے چین رہا کرتے تھے اور معلومات حاصل کرنے کے لیے اپنے قاصد کے انتظار میں مدینہ سے باہر نکل جاتے۔

اس لیے کہ سعد بن ابی وقاصؓ کا قاصد شہر کے باہر ہی ملا کرتا تھا۔ اس دن بھی اس سے حالات پوچھے، وہ آپؓ کو پہچانتا نہیں تھا، اس لیے وہ اپنی سواری پر بیٹھا حالات گوش گزار کرتا رہا اور حضرت عمرؓ سواری کے ساتھ دوڑتے تھے۔

اسی حالت میں دونوں شہر میں داخل ہوئے، ادھر پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ امیر المومنین یہی ہیں، اس وقت وہ بہت حیران اور نادم ہوا۔ آپؓ نے اسے تسلی دی، کوئی حرج نہیں، تم حالات بیان کرتے جاؤ۔ حالات سننے کے بعد سعد بن ابی وقاصؓ کا خط ایک مجمع میں سنایا اور پھر اپنے خیالات تقریر کی شکل میں بیان کیے۔

’’مسلمانو! میں بادشاہ نہیں ہوں کہ تم کو غلام بنانا چاہتا ہوں، البتہ خلافت کا بارگراں مجھ پر ڈالا گیا ہے۔ اگر میں اس طرح تمہاری خدمت کر سکتا کہ تم چین و سکون کے ساتھ اپنے گھروں میں سوؤ، تو یہ میرے لیے کسی سعادت سے کم نہیں۔‘‘

آپؓ کے دور میں فتوحات کثرت سے ہوئیں، محاصل کی فراوانی امن و امان کا قیام ملک کی خوشحالی اور عوام کی فارغ البالی جیسے اوصاف اور کمالات آپؓ کے دور کی نمایاں خصوصیات ہیں۔

آپؓ کے دس سالہ دور حکومت میں ایران و روم کی عظیم الشان سلطنتوں کے پرخچے اڑا دیے گئے اور ہندوستان کی سرحد سے لے کر شمالی افریقہ تک اسلام کا پرچم بلند ہو گیا۔ حضرت عمرؓ کے کارناموں میں مذہبی بنیادوں پر ایسے آئین حکومت کا مرتب کرنا ہے جن کی رو سے مسلمانوں کی ترقی ممکن ہوئی۔

حضرت عمررضی اللہ عنہ نے نظام شوریٰ پر ہی خلافت اسلامیہ کو قائم کیا چونکہ اسلامی نظام میں شوریٰ کی اہمیت مسلم ہے۔ اس نظام میں کوئی بھی اہم کام بغیر اہل الرائے صحابہ کے مشورے کے بغیر انجام نہ پاتا۔

پولیس کا باقاعدہ محکمہ اور جیل خانے، عدالتوں کا قیام عمل میں آیا۔ زراعت کی سیرابی کے لیے نہریں جاری کیں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے زمانے میں بیت المال قائم ہو گیا تھا اور ایک چھوٹی سی عمارت بھی تعمیر کروائی گئی لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں بیت المال کو وسعت دی۔

ممالک محروسہ میں فوجی مراکز کا قیام بھی حضرت عمرؓ کا ہی کارنامہ تھا۔ نوزائیدہ بچوں کے دودھ اور ضرورت مندوں کے وظائف کا باقاعدہ انتظام کیا۔ ذمیوں سے ایک ایسا ٹیکس ضرور وصول کیا جاتا تھا چونکہ مسلمان اس کے پابند نہ تھے۔ یہ ان کی حفاظت اور جنگی خدمات کا معاوضہ تھا۔ ذمی جنگی خدمات سے مستثنیٰ تھے۔

آپؓ راتوں کو گشت کرکے لوگوں کے حالات کا پتا چلا لیا کرتے تھے۔ ایک بار ایک بچے کی رونے کی آواز سنی تو پاس جا کر اس کی ماں کو تاکید کی کہ بچے کو بہلائے، دوسری بار جب اسی راستے سے گزر ہوا تو بچہ اسی طرح رو رہا تھا۔

وجہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ماں اپنے بچے کا دودھ چھڑانے کے جتن کر رہی ہے تاکہ بیت المال سے وظیفہ مقرر ہو جائے۔ اس واقعے کو سن کر فرمایا: ’’ہائے عمر نے کتنے بچوں کا خون کیا ہوگا۔‘‘ اسی دن منادی کرا دی کہ بچے کی پیدائش کے وقت ہی وظیفہ مقررکردیا جائے۔ آج بھی برطانیہ اور کینیڈا میں حضرت عمرؓ کا نظام رائج ہے۔