ابراہیمی بمقابلہ مسلم معاہدات

اسلامی تہذیب میں فکری اور فقہی تنوع ہمیشہ سے موجود رہا ہے


مسعود عارف June 21, 2026

ابراہیمی معاہدات (Abraham Accords) اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے اور امریکا کی سرپرستی میں ان کا مقصد اسرائیل اور متعدد مسلم اکثریتی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا تھا۔ ان معاہدات میں بین المذاہب مکالمے، اقتصادی تعاون، علاقائی سلامتی اور ان اقوام کے درمیان پرامن بقائے باہمی پر زور دیا گیا ہے جو ماضی میں سیاسی اور مذہبی کشیدگی کا شکار رہی ہیں۔

ان معاہدات کا نام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا ہے جنہیں یہود، عیسائی اور مسلمان تینوں اپنے مشترکہ جد ِ امجد کی حیثیت سے احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ابراہیمی معاہدات کے حامی انھیں مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیتے ہیں، تاہم بہت سے مسلمان ان معاہدات کو تشویش اور تحفظات کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

ان کے نزدیک یہ معاہدات تین مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان تعاون کا ایک ایسا ڈھانچہ قائم کرنے کی کوشش ہیں جو مسلم دنیا کو درپیش بنیادی سیاسی اور مذہبی مسائل کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ معاہدات محض سیاسی انتظامات نہیں بلکہ ایسے ذرائع ہیں جو وقت کے ساتھ مسلم معاشروں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ابراہیمی معاہدات سے وابستہ سب سے نمایاں اور علامتی پیش رفت متحدہ عرب امارات میں’’ ابراہیمک فیملی ہاؤس‘‘کا قیام ہے۔ اس کمپلیکس میں ایک مسجد، ایک چرچ اور ایک یہودی عبادت گاہ (سیناگاگ) کو ایک ہی مقام پر تعمیر کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے حامی اسے رواداری، باہمی احترام اور پر امن بقائے باہمی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ تاہم ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات مذاہب کے اختلاط کو فروغ دے سکتے ہیں جس سے مذہبی امتیازات دھندلا سکتے ہیں اور مسلم معاشروں میں اسلام کی منفرد شناخت کمزور ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق دیگر مذاہب کا احترام یقینا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے، لیکن اسلام کے جداگانہ عقائد، اقدار اور تشخص کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابراہیمی معاہدات کا سب سے بڑا فائدہ اسرائیل کو پہنچا ہے۔ ان معاہدات کے نتیجے میں اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سفارتی روابط کے نئے دروازے کھلے ہیں۔

یہودی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو ان خطوں میں کام کرنے کے زیادہ مواقعے حاصل ہوئے ہیں جو پہلے ان کے لیے بند یا محدود تھے۔ نتیجتاً نہ صرف اسرائیل بلکہ دنیا بھر میں موجود یہودی کاروباری حلقوں اور سرمایہ کاروں کو بھی معاشی اور تزویراتی فوائد حاصل ہوئے ہیں جو مشرق وسطیٰ کی منڈیوں تک زیادہ رسائی کے خواہاں تھے۔

تاریخ میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے متعدد مذہبی اور فکری نظام متعارف کرانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ سولہویں صدی میں برصغیر کے مغل بادشاہ اکبر نے ’’ دین الٰہی‘‘ متعارف کرایا۔

اس کا مقصد مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا اور ایک مشترکہ اخلاقی بنیاد قائم کرنا تھا، تاہم یہ تحریک عوامی سطح پر مقبول نہ ہو سکی اور اکبر کی وفات کے بعد تقریباً ختم ہو گئی۔اسی طرح انیسویں صدی میں ایران میں بہائی مذہب کا ظہور ہوا، جس نے عالمگیر اتحاد اور انسانی اخوت کا تصور پیش کیا۔

اگرچہ اس نے مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور انسانیت کے اتحاد پر زور دیا، لیکن اسے اپنے وطن میں شدید مخالفت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں اس کا انتظامی اور روحانی مرکز موجودہ اسرائیل کے شہر حیفا میں قائم ہو گیا۔ یہ تاریخی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ مختلف مذاہب کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے اور اتحاد پیدا کرنے کی کوششیں صدیوں سے ہوتی رہی ہیں، اگرچہ ان کے نتائج مختلف رہے ہیں۔

اس پس منظر میں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے، اگر مسلم ممالک ابراہیمی معاہدات کے تحت بین المذاہب تعاون کے لیے آمادہ ہو سکتے ہیں تو پھر مسلمان آپس میں’’مسلم معاہدات‘‘(Muslim Accords) کی صورت میں تعاون اور اتحاد کا کوئی موثر نظام کیوں قائم نہیں کر سکتے؟

بین المذاہب معاہدات کے برعکس مسلم معاہدات اس فطری رشتے پر مبنی ہوں گے جو پہلے ہی تمام مسلمانوں کے درمیان موجود ہے۔ مسلکی اختلافات کے باوجود مسلمانوں کے بنیادی عقائد مشترک ہیں۔

وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھتے ہیں، حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی اور رسول مانتے ہیں اور قرآنِ مجید کو اپنی مقدس اور الہامی کتاب تسلیم کرتے ہیں۔ یہی بنیادی عقائد دنیا بھر کے مسلمانوں کو جغرافیائی، نسلی، لسانی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ مسلم اُمت وقت کے ساتھ مختلف فرقوں اور مکاتبِ فکر میں تقسیم ہو گئی ہے۔ عمومی طور پر مسلمان دو بڑے دھڑوں، سنی اور شیعہ، میں تقسیم ہیں اور ان دونوں کے اندر بھی متعدد شاخیں اور فقہی مکاتب موجود ہیں۔

مزید برآں ان تمام مکاتب کے اندر بھی متعدد ذیلی گروہ اور فکری تحریکیں موجود ہیں۔ اگرچہ ان اختلافات کی بنیاد زیادہ تر تاریخی، فقہی اور کلامی مباحث پر ہے، لیکن وقت گزرنے کیساتھ یہ اختلافات بعض اوقات تقسیم اور کمزوری کا سبب بن گئے ہیں۔

بہت سے مسلمانوں کا خیال ہے کہ مسلکی تنازعات نے مسلم دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز سے توجہ ہٹا دی ہے جن میں غربت، ناخواندگی، سیاسی عدم استحکام، ٹیکنالوجی میں پسماندگی اور معاشی کمزوری شامل ہیں۔

موجودہ دور مسلمانوں سے اتحاد اور یکجہتی کے نئے عزم کا تقاضا کرتا ہے، اگر مکمل مذہبی اتفاقِ رائے ممکن نہیں تو بھی مسلمان مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون کر سکتے ہیں۔ مسلم معاہدات کا تصور فرقہ وارانہ شناختوں کے خاتمے کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ اس کا مقصد مسلکی اختلافات کے باوجود باہمی احترام، پر امن بقائے باہمی اور عملی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

اس سلسلے میں یہودیوں اور عیسائیوں کے تجربات سے بھی سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہودیت میں آرتھوڈوکس، کنزرویٹو، ریفارم اور ریکنسٹرکشنسٹ جیسے مختلف مکاتبِ فکر موجود ہیں۔ اسی طرح عیسائیت میں رومن کیتھولک، ایسٹرن آرتھوڈوکس، پروٹسٹنٹ، اینگلیکن اور متعدد دیگر فرقے شامل ہیں۔

اس کے باوجود یہودی اور عیسائی اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے اکثر ایک دوسرے کیساتھ تعاون کرتے ہیں۔ ان کے فرقہ وارانہ اختلافات انھیں ہر معاملے میں تقسیم نہیں کرتے۔ اسی طرح مسلم دنیا بھی زیادہ موثر تعاون سے بے شمار فوائد حاصل کر سکتی ہے۔

تصور کیجیے کہ پاکستان، ترکیہ، ایران، افغانستان، بنگلہ دیش، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور بحرین جیسے ممالک ایک علاقائی مسلم معاہدے کے تحت متحد ہو جائیں۔ یہ ممالک وسیع انسانی وسائل، اہم جغرافیائی محل وقوع، قدرتی دولت، عسکری صلاحیت اور معاشی امکانات کے حامل ہیں۔

ایسا تعاون خطے میں امن و استحکام کو فروغ دے سکتا ہے اور مسلم ممالک کے درمیان تنازعات کو کم کر سکتا ہے۔ مسلم معاہدات فرقہ وارانہ کشیدگی کم کرنے، باہمی فہم و ادراک بڑھانے اور مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتے ہیں۔

یہ مسلمانوں کو اختلافات کے بجائے مشترکہ عقائد پر توجہ مرکوز کرنے اور سماجی، معاشی، تعلیمی اور انسانی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔بالآخر مسلم اُمت کی اصل قوت یکسانیت میں نہیں بلکہ اتحاد میں مضمر ہے۔

اسلامی تہذیب میں فکری اور فقہی تنوع ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ان اختلافات کو تقسیم کا ذریعہ بنانے کے بجائے فکری وسعت اور علمی غنا کا ذریعہ بنایا جائے۔ تعاون، احترام اور مشترکہ مقصد کے جذبے کیساتھ مسلم معاہدات مسلمانوں کی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور انھیں جدید دنیا میں زیادہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔

اس لحاظ سے مسلم معاہدات محض ایک سیاسی انتظام نہیں ہوں گے بلکہ اسلام کے ماننے والوں کے درمیان زیادہ یکجہتی، ہم آہنگی اور اجتماعی ترقی کی ایک ایسی آرزو کی نمائندگی کریں گے جو ایمان، عدل، اخوت اور باہمی تعاون کے ان اصولوں سے ہم آہنگ ہو جو اسلامی روایت کی بنیاد ہیں۔