قومی اسمبلی اجلاس؛ داخلہ ڈویژن کے 74 ارب 35کروڑ کے چار مطالبات زر منظور

داخلہ ڈویژن کے بجٹ پر کٹوتی کی اپوزیشن کی 123 تحاریک کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئیں


ویب ڈیسک June 22, 2026

اسلام آباد:

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران داخلہ ڈویژن کے 74 ارب 35کروڑ سے زائد کی چار مطالبات زر منظور کر لیے گئے۔

داخلہ ڈویژن کے بجٹ پر کٹوتی کی اپوزیشن کی 123 تحاریک کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئیں۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، تین وزارتوں کے 12 کھرب 42 ارب سے زائد کے 10 مطالبات زر منظوری کا عمل شروع کیا گیا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے داخلہ ڈویژن کے 3کھرب 49 ارب سے زائد کی چار مطالبات زر منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیے جبکہ اپوزیشن نے داخلہ ڈویژن کے چار مطالبات زر پر کٹوتی کی 123 تحاریک پیش کیں۔

اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک پر بحث ہوئی جس کے بعد حکومتی اتحاد نے داخلہ ڈویژن کے 74 ارب 35کروڑ سے زائد کی چار مطالبات زر منظور کر لیے۔

نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے 33 ارب 70 کروڑ سے زائد کے تین مطالبات زر کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے۔ اپوزیشن نے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے بجٹ پر 112 کٹوتی کی تحریک پیش کر دیں جس پر بحث جاری ہے۔

اراکین کا اظہار خیال

داخلہ ڈویژن کی کٹوتی کی تحاریک پر اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ قومی اتحاد کے لیے آواز اٹھائی ہے، ہم اسکول کے بچے نہیں ہیں، ہم سب کو ذاتی انا سے نکل کر کچھ کرنا ہو گا، ہم تو ہاتھ ملا رہے تھے کہ آپ کی طرف سے ہاتھ آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ قومی یکجہتی کے لیے آواز اٹھائی ہے، اپوزیشن لیڈر ہمیشہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں، سوچ رہے تھے ہاتھ ملانے سے معاملات بہتر ہوں گے اور محمود اچکزئی نے ایوان میں خود جا کر وزیراعظم سے ہاتھ ملایا۔

بیرسٹر گوہر نے اعتراض کیا کہ چار سال میں انسانی حقوق کی بے قدری اور بدترین قانون شکنی کی گئی۔ یاسمین راشد، اعجاز چوہدری اور دیگر ساتھیوں کو دوبارہ سزائیں سنائی گئی ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ سی آر پی سی کو تبدیل کریں گے لیکن آج تک وہ قانون نہیں آیا، یہ نو مئی کی دھول کو ابھی بٹھائیں۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں کم از کم چھ مرتبہ بیرسٹر گوہر کی سیٹ پر گیا، ہم نے ایک مفصل مسودہ کریمنل لاء ترامیم کا اسمبلی میں متعارف کروایا، وہ مسودہ قائمہ کمیٹی میں پڑا ہے جو غیر سیاسی ترامیم ہیں۔

پی ٹی آئی رہنماوں کو دوبارہ سزائیں سنائے جانے پر وزیر قانون نے کہا کہ سزا عدالت نے سنائی ہے، اس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔