وزیر دفاع خواجہ آصف نے ویگو ڈالے کے بعد بلٹ پروف گاڑیوں کی تعداد میں اضافے پر بھی سوال اٹھا دیا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ملک میں بلٹ پروف گاڑیوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے، وزارت داخلہ ملک بھر میں بلٹ پروف گاڑیوں کی فہرست مرتب کرے۔
انہوں نے کہا دیکھا جائے کہ کس کس کے پاس بلٹ پروف گاڑی ہے اور کیوں ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا یہ بھی دیکھا جائے کہ ان کے پاس ہر تین ماہ بعد بلٹ پروف گاڑی کے ٹائر تبدیل کرنے کے پیسے کہاں سے آتے ہیں۔
گزشتہ روز، وزیر دفاع نے پارلیمنٹ لاجز اور سڑکوں پر ویگو ڈالوں کے استعمال پر بھی تنقید کرتے ہوئے ان پر پابندی کی تجویز دی، جس پر ایوان میں قہقہے لگ گئے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو ویگو ڈالے سے بچائیں، ویگو ڈالا ویسے بھی بے ہودگی ہے، ہمارے وزرا ءکو بتائیں شام کے بعد جھنڈا گاڑی پر نہیں ہونا چاہیے، جب وزیر گاڑی میں بیٹھا ہو تو جھنڈے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ کوئی ایسا طور طریقہ ہونا چاہیے کے پارلیمنٹ لاجز میں ویگو ڈالے نہ آئیں، جب ہم اقتدار میں ہوتے ہیں آگے پولیس ہوتی ہے اقتدار جاتا ہے پیچھے پولیس ہوتی ہے، ویگو ڈالوں پر پابندی لگائی جائے، ویگو ڈالوں پر سڑکوں پر بھی پابندی لگنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ لاجز میں اراکین پارلیمنٹ رہتے ہیں کس کو کیا خطرہ ہے، ویگو ڈالے میں جو بیٹھتا ہےاسے کچھ ہو جاتا ہے، پارلیمنٹ لاجز میں رہنے والے اراکین کو غیر ضروری سیکیورٹی پروٹوکول کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔