وزیراعظم کی ایم کیو ایم پاکستان کے وفد سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران لاپتہ کارکنان، شہری علاقوں کیلیے علیحدہ ترقیاتی پیکج، بلدیاتی قانون میں ترمیم، گورنر شپ کے حوالے سے مطالبات پیش کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے رانا ثنا اللہ کو ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنان کی بازیابی کے حوالے سے کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران ایم کیو ایم نے بجٹ میں کراچی حیدرآباد سمیت سندھ کے شہری علاقوں کو نظر انداز کرنے پر وزیراعظم سے شکوہ کیا اور شہری علاقوں کے لیے الگ پیکچ کا مطالبہ بھی کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے بجٹ کے بعد تین ماہ کے اندر سندھ کے شہری علاقوں کیلیے ترقیاتی پیکج کو مزید بڑھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ایم کیو ایم نے ملاقات میں سندھ کی گورنر شپ کے حوالے سے سخت موقف اپنایا اور کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت میں گورنر شپ ایم کیو ایم کو دینے کا معاہدہ ہوا تھا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزرا نے کہا کہ وفاقی حکومت کی تشکیل کے بعد کہا گیا گورنر نے لیگ کا ہوگا لیکن ایم کیو ایم کو یہ عہدہ دیا گیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پر ایم کیو ایم رہنماؤں نے کہا کہ پی ڈی ایم معاہدے کے بعد گورنر شپ ایم کیو ایم سے لینے کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی ایم کیو ایم کو گورنر شپ کے معاملے کو آگے چل کر دیکھنے اور بات چیت جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی جبکہ وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے بلدیاتی بل پر اتفاق رائے قائم کرنے کے لیے 8 رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 8 رکنی کمیٹی میں مسلم لیگ ن کے چار جبکہ ایم کیو ایم کے چار اراکین ہوں گے اور یہ کمیٹی تمام جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کے لئے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔