ادب برائے زندگی ایک عمومی نظریہ ہے جو ادب کو سماجی اصلاح اور انسانی مسائل کے حل کا ذریعہ مانتا ہے، یہ کوئی تحریک نہیں ہے بلکہ ایک مستقل ادبی رویہ ہے ، اس کا کسی مخصوص سیاسی، معاشی نظریے سے جڑا ہوا ہونا لازمی نہیں۔ترقی پسند تحریک اسی نظریے کی ایک باقاعدہ سیاسی شکل ہے جس میں انقلابی سیاست، بغاوت، معاشی استحصال اور مزدور اور محنت کشوں کو مرکزی موضوع بنایا جاتا ہے۔
ماضی میں ترقی پسند تحریک اردو ادب کی سب سے موثر تحریک رہی ہے۔ اردو ادب میں ترقی پسند ادیبوں کا پلہ بھاری رہا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ تحریک غیر متحرک اور غیر موثر دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے آئیے !اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
ترقی پسند تحریک کے مخالفین کے نزدیک انسانی وجود جسم اور روح کا مرکب ہے۔ ترقی پسندوں نے انسان کی روحانی شخصیت کو نظرانداز کرکے اس کے جسمانی وجود اور اس کے تقاضوں کو اولین حیثیت دی جس کے نتیجے میں انسان کی زندگی دو وقت کی روٹی کی تلاش کا نام بن کر رہ گئی، اگر روٹی سب کچھ ہے تو کسی کو روٹی اس طرح پیش کی جائے کہ جس سے اس کی عزت نفس مجروح ہو تو وہ انسان اس روٹی کو قبول نہیں کرے گا۔ اس لیے انسان کے جسمانی تقاضوں کے ساتھ اس کی روح کے تقاضوں کو بھی اہمیت دینی ہوتی ہے۔
ترقی پسندوں نے انسان کے روحانی تقاضوں کو نظرانداز کرکے خالص مادہ پرستانہ نظریات اور فکر کو پروان چڑھایا، انسانی زندگی کے ہر سماجی، معاشی اور سیاسی مسئلے کو محض طبقاتی کشمکش کے تناظر میں دیکھا جس کے نتیجے میں انسان کا اس کی روح سے رشتہ کمزور ہوا اور وہ ذہنی بے سکونی اور فکری انتشار کا شکار ہوا۔
ترقی پسندوں نے سیاسی و معاشی حکمت عملی میں مذہب کو اپنا حریف بنا کر اپنی تمام صلاحیتیں اس کو غیر موثر بنانے پر صرف کیں، دینی قوتوں کو ملّا، رجعت پسند اور قدامت پسند جیسے الفاظ سے نوازا جس کی وجہ سے ملک کی آبادی کا ایک بڑا طبقہ ان سے لاتعلق ہو گیا جس سے یہ تحریک غیر موثر ہوئی۔
ترقی پسندوں نے اپنی فکر کی روشنی میں معاشرے کو طبقات میں تقسیم کرکے جاگیردار، صنعت کار، سرمایہ دار اور مزدور ، محنت کشوں کے مابین مزدور یونین کے ذریعے کشمکش اور تصادم کو ہوا دی جس کا مقصد ملک میں انارکی پیدا کرکے ملک کو معاشی بدحالی کی جانب دھکیلنا تھا۔ ترقی پسندوں نے اپنے نظریات کو ہی سب کچھ سمجھا، انھوں نے زندگی کے ہر معاملے کو اپنے زاویۂ نگاہ سے دیکھا، اگر کہانی میں غریب آدمی کی محرومی کا تذکرہ ہے تو مصنف ترقی پسند ہے، حالانکہ غریب آدمی بھی بے رحم اور امیر شخص رحم دل ہو سکتا ہے لیکن اپنی محدود تنگ نظر رویے کے سبب ترقی پسند اس اصول کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ترقی پسند تحریک کی پالیسی پاکستان کے سماجی، معاشی حالات اور زمینی حقائق کے برعکس حالات سے غیر مطابقت رہی۔ اس میں انتہا پسندی کا عنصر غالب رہا، انھوں نے انقلابی اشعار، افسانوی ادب، اخباری مضامین، ادارتی نوٹس اور کالموں کے ذریعے انقلاب لانے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام رہے۔
ترقی پسند ہر سال یکم مئی زور و شور سے مناتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے مزدوروں کو شعور دیا لیکن یہ شعور خود مزدوروں کے کام نہیں آیا۔ صنعتیں تباہ ہوئیں، جاگیردار، قبائلی سردار ومشر اور سرمایہ دار طبقہ مزید مضبوط ہوا، مزدور آج بھی پرانی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہے۔ترقی پسند ادیبوں کو ادب تک محدود رہنا چاہیے تھا لیکن کیونکہ ادب انسان کی معاشی ضرورت پوری نہیں کرتا لہٰذا انھوں نے صحافت، سیاست اور فنون لطیفہ بالخصوص علم کے شعبے میں پناہ لی۔
سیاست میں خود کو کمیونزم کی تحریک سے وابستہ کر لیا اور اس کے نظریات اور افکار کو فروغ دینے کے لیے ادب کو اس کی اشاعت کا ذریعہ بنایا اور اس کا آلہ کار بن کر اس کی اشاعت کی جس کے نتیجے میں ترقی پسند ادبی تحریک کمیونزم اور سوشلزم کی تحریک کا آلہ کار بن کر رہ گئی۔ اس سیاست میں بھی اس تحریک نے محض نعرہ بازی کو فروغ دیا۔ یہی وجہ ہے کمیونزم کی ناکامی کے بعد یہ تحریک غیر موثر ہو گئی۔
ترقی پسند تحریک کے حامی عناصر مخالفین کے ان تمام اعتراضات اور الزامات کو مسترد کرتے ہیں ،ان کے نزدیک ترقی پسند تحریک نے اردو ادب کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ اس ادبی تحریک کی بدولت ادب میں ایک تبدیلی آئی جس کی بدولت تصوراتی اور خیالی ادب کی جگہ حقیقی ادب تخلیق کیا جانے لگا ۔ادب کے ذریعے گل و بلبل کے بجائے حقائق کی ترجمانی کی گئی، ادیب اور معاشرے کا گہرا تعلق پیدا ہوا جس سے معاشرے میں حقیقی تبدیلی آئی۔
ترقی پسند تحریک نے نہ صرف نظریاتی ادب کو نئی جہت عطا کی بلکہ اپنے نظریات کے تحت نظریاتی صحافت کو بھی فروغ دیا۔ اختلاف رائے کو اہمیت دی، مناظرے کی جگہ مکالمے کو فروغ دیا اس تحریک نے صحافت پر جو احسانات کیے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کی صحافت میں اگر کچھ زندگی کی سچائی اور جرأت مندی نظر آتی ہے اس کا تنہا سبب ترقی پسند صحافت ہے۔
ترقی پسند تحریک نے ایسی سیاست کو فروغ دیا جس میں لسانی، علاقائی نفرتوں کا خاتمہ، مذہب میں احترام انسانیت، رواداری، ایک دوسرے کو برداشت کرنا وہ عناصر تھے جو اس تحریک کا لازمی جز تھے۔ اس تحریک کے نظریہ سیاست میں بھوک اور افلاس کو مٹانے، سماجی مساوات قائم کرنے اور فرد کی آزادی وہ عناصر تھے جس نے معاشرے کے ہر طبقے کو متاثر کیا۔
یہی وجہ ہے کہ آج بھی کوئی سیاسی تحریک اپنے منشور میں ان عناصر کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ ترقی پسندوں کے نزدیک کمیونزم ناکام نہیں ہوا بلکہ اس تحریک کو ناکام اور غیر موثر بنانے کے لیے سرمایہ داری نظام سے وابستہ ممالک نے اپنے اپنے ملکوں میں فلاحی ریاستیں قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ کمیونزم کے ردعمل سے خود کو محفوظ رکھا جاسکے، یہ کمیونزم کی کامیابی کی ایک بڑی دلیل ہے۔
یہ ہے دونوں جانب کا نقطہ نظر، کون درست ہے اور کون غلط؟ اس کا فیصلہ پڑھنے والے خود کر سکتے ہیں۔ میری ذاتی رائے میں جب تک عوام الناس کے مسائل حل نہیں ہوتے، ظلم و ستم کا خاتمہ نہیں ہوتا، سرمایہ داری نظام کی خرابیاں عوام الناس پر مسلط ہیں، ترقی پسند تحریک کی ضرورت رہے گی۔ آج جو صورت حال ہے عدم مساوات، ناانصافی، ظلم و ستم، انتہا پسندی، فرقہ واریت، لسانیت کو جو عروج حاصل ہے ایسے حالات میں اس تحریک کی ضرورت جتنی آج ہے اتنی کبھی نہ تھی۔
اس لیے ضروری ہے کہ اس تحریک سے وابستہ اہل علم آگے آئیں، ملک کی سماجی روایات اور سماجی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ ملک فلاح اور خوشحالی کی جانب گامزن ہو سکے۔بعض عناصر کا کہنا ہے کہ تحریروں سے انقلاب نہیں آتا لیکن بقول ایک دانشور کہ دانشوروں کی باتیں قبول نہ بھی کی جائیں، ان پر غور ضرور کیا جاتا ہے اس غور کے نتیجے میں عام لوگوں کے انداز فکر میں تبدیلی ضرور آتی ہے یہ ایک بڑی کامیابی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔