بحرین نے اپنے خلاف مبینہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بحرین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ حملہ ایران کی جانب سے مملکت کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے خلاف مسلسل اور منظم کارروائیوں کا حصہ ہے۔ وزارت کے مطابق یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ حملوں کا ایک تسلسل ہے۔
بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے 2026 کی قرارداد 2817 پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائے، مبینہ جارحیت کا سلسلہ روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور ذمہ دار عناصر کا احتساب یقینی بنائے۔
بحرین نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے عالمی برادری کے مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ایک مضبوط اور واضح بین الاقوامی ردعمل ناگزیر ہو چکا ہے۔
بحرینی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کی حامی ہے، تاہم اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے باعث ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہیں، جبکہ مختلف ممالک مسلسل سفارتی کوششوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔