عدالت سے واپسی پر پریزن وین سے فرار قیدیوں میں سے تین نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا

چار ملزمان گزشتہ روز موقع پر پکڑے گئے تھے، روپوش ملزمان کی تعداد 7 رہ گئی


اسٹاف رپورٹر July 01, 2026
قیدی فرار ہونے کے بعد اڈیالہ جیل کی پریزن وین کی سہالہ چیکیان اسٹاپ پر موجودگی کا منظر (فوٹو : ایکسپریس)

راولپنڈی:

عدالت سے واپسی پر پریزن وین سے فرار قیدیوں میں تین نے آج خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق تحصیل کچہری کہوٹہ سے پیشی کے بعد اڈیالہ جیل منتقلی کے دوران پولیس اہلکاروں کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کر 14 قیدی گزشتہ روز فرار ہوگئے تھے، چار قیدیوں کو پولیس نے موقع پر ہی پکڑلیا تھا۔

راولپنڈی پولیس نے ملزمان کے گھروں اور ٹھکانوں پر پے در پے چھاپے مارنے شروع کردیے جس کے بعد آج تین ملزمان نے خود کو رضاکارانہ طور پر پولیس کے حوالے کردیا ان میں احتشام، عدیل اور ضیغم شامل ہیں۔

پولیس نے چھاپوں کے دوران ملزمان کے لواحقین کو باور کرایا تھا کہ جو خود سرینڈر کرے گا اس کے خلاف صرف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاہم جو سرینڈر کرکے گرفتاری نہیں دے گا تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

پولیس کے چھاپوں اور لواحقین سے کمیونی کیشن کی حکمت عملی کامیاب رہی اور ملزمان نے سرینڈر کرنا شروع کردیا، تین ملزمان کے سرینڈر کے بعد اب دوبارہ گرفتار ملزمان کی تعداد 7 ہوگئی ہے جب کہ 7 ملزمان تاحال روپوش ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق مزید تین سے چار ملزمان سرینڈر کرنا چاہتے ہیں۔

دریں اثنا سی پی او سید خالد محمود ہمدانی کی زیر صدارت تھانہ کہوٹہ میں اہم اجلاس ہوا جس میں ایس ایس پی آپریشنز، ایس ایس پی انویسٹی گیشن، ایس پی صدر، ایس پی سیکیورٹی، ڈی ایس پی کہوٹہ، ایس ایچ اوز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

سی پی او سید خالد محمود ہمدانی نے فرار حوالاتیوں کی گرفتاری کے حوالے سے پیشرفت کا جائزہ لیا اور تینوں گرفتار ملزمان کو اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔

سی پی او نے دیگر فرار حوالاتیوں کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیموں کو ہدایات دیں اور ہدایت دی کہ فرار حوالاتیوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

سی پی او نے خصوصی تحقیقاتی کمیٹی کو حقائق پر مبنی رپورٹ جلد پیش کرنے کا حکم دیا۔

سی پی او نے کہا کہ قیدیوں اور حوالاتیوں کی نقل و حرکت کے حوالے سے انتظامات کا ازسر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سی پی او نے سینئر افسران کو تمام انتظامات کو مکمل فول پروف بنانے کی ہدایت کی اور ہدایت دی کہ ایسا نظام وضع کیا جائے کہ آئندہ ایسا واقعہ رونما نہ ہوسکے۔

سی پی او نے کہا کہ واقعہ کے محرکات کے حوالے سے مفصل رپورٹ پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔