ورلڈ بینک کی این ایف سی ایوارڈ میں اصلاحات اور زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کی سفارش

قرض ادائیگی، سماجی تحفظ، انفرا اسٹرکچر، سیکیورٹی اور ماحولیاتی  تحفظ کا مالی بوجھ وفاق اور صوبے مل کر اٹھانے پر زور


ارشاد انصاری July 01, 2026
فوٹو فائل

عالمی بینک نے این ایف سی ایوارڈ میں اصلاحات کی سفارش کردی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عالمی بینک کا کہنا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی، سماجی تحفظ، انفرا اسٹرکچر، سیکیورٹی اور ماحولیاتی تحفظ سمیت اہم قومی منصوبوں اور شعبوں کا مالی بوجھ وفاق اور صوبے مل کر اٹھائیں۔

اس کے علاوہ عالمی زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی اور پراپرٹی ٹیکس کے یکساں نفاذ پر بھی زور دیا ہے۔

عالمی بینک نے وفاقی مالیاتی نظام مضبوط بنانے سے متعلق جاری کردی ہے۔ رپورٹ میں این ایف سی ایوارڈ اور اضافی مراعات کو کارکردگی، شفافیت، مالی نظم و ضبط اور بہتر خدمات سے جوڑنے کی سفارش کی گئی ہے۔

عالمی بینک نے قرضوں کی ادائیگی، انفرا اسٹرکچر،سماجی تحفظ،سیکیورٹی اور ماحولیاتی منصوبوں میں پیش رفت کیلئے باہمی تعاون پر زور دیا ہے۔

اترقی کیلئے مالیاتی نظام کی مضبوط وفاقیت پر جاری رپورٹ کے مطابق 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ سے صوبوں کی ذمہ داریوں اور ریونیو میں اضافہ ہوا لیکن قومی مالیاتی نظام میں کمزوریاں برقرار ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اخراجات میں کمی نہیں آئی،2010 سے2024 کےدوران صوبائی ریونیو4 فیصد سے بڑھ کر6.5 فیصد ہوگیا،مقامی حکومتوں کے اخراجات 10 فیصد سے کم ہو کو صرف 5 فیصد تک محدود ہو چکے لیکن مالی نظم وضبط ،ریونیو اور صحت و تعلیم سمیت عوام کو سہولیات کی فراہمی کے چیلنجز برقرار ہیں۔

عالمی بینک کے مطابق صوبوں کے پاس دستیاب اضافی فنڈز میں سے 80 فیصد تنخواہوں اور پنشنز جیسے جاری اخراجات پر خرچ ہوجاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق زراعت کاجی ڈی پی میں شیئر 20 فیصد سے زائد لیکن بڑا حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے، زرعی آمدن پر ٹیکس کے مؤثر نفاذ اور پراپرٹی ٹیکس کے یکساں نظام پر زور دیا گیا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی 9.9 کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح ناکافی اور خطے میں کم ترین ہے ایتھوپیا میں یہ شرح 10.2، انڈونیشیا میں 10.3، مصراور میکسیکو میں 12.6، ویتنام میں 14.3، بھارت میں 16.8 اور ترکی میں 17.5فیصد ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کا ٹیکس نظام یکساں بنانے، جی ایس ٹی نظام ہم آہنگی پر بھی زور دیا گیا ہے۔