انٹارکٹیکا میں ’خون کے آبشار‘ کا 100 سال پرانا معمہ حل

پانچ منزلہ سرخ آبشار اپنی خون جیسی رنگت کے باعث طویل عرصے سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی


ویب ڈیسک July 01, 2026

سائنس دانوں نے انٹارکٹیکا میں واقع مشہور ’بلڈ فالز‘ کے ایک صدی سے زائد عرصہ پرانے معمہ کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

میک مرڈو ڈرائی ویلیز میں ٹیلر گلیشیئر سے بہنے والی پانچ منزلہ سرخ آبشار اپنی خون جیسی رنگت کے باعث طویل عرصے سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ تاہم، نئی تحقیق نے واضح کیا ہے کہ یہ درحقیقت خون نہیں ہے۔

رواں سال شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اس آبشار سے نکلنے والا سرخ مائع آئرن (لوہا) سے بھرپور انتہائی نمکین پانی (برائن) ہے، جو گلیشیئر کے نیچے موجود ذخیرے سے برف کے دباؤ اور حرکت کے باعث وقتاً فوقتاً باہر نکلتا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب یہ آئرن سے بھرپور پانی ہوا کے رابطے میں آتا ہے تو آکسیڈائز ہو کر زنگ کی طرح سرخ رنگ اختیار کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے آبشار خون جیسی دکھائی دیتی ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلوی ماہر ارضیات گریفتھ ٹیلر نے 1911 میں اس مقام کو دریافت کیا تھا، جس کے بعد اسے ’بلڈ فالز‘ کا نام دیا گیا تھا۔