استنبول میں وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر اردوان کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دنیا ایک نئے سیاسی اور معاشی انتشار کے دور سے گزر رہی ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی، مشرق وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال، توانائی کے بحران، تجارتی راستوں کی نئی تشکیل، مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات، علاقائی اتحادوں کی ازسرِ نو ترتیب اور عالمی معیشت کی سست روی نے تقریباً ہر ملک کو اپنی خارجہ پالیسی پر نئے سرے سے غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایسے حالات میں پاکستان اور ترکیہ کی قیادت کا نہ صرف ایک دوسرے پر اعتماد کا اظہار کرنا بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سفارتی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرنا اس امر کی علامت ہے کہ دونوں ممالک مستقبل کی سیاست کو محض بیانات سے نہیں بلکہ مشترکہ متحرک حکمتِ عملی کے ذریعے دیکھنا چاہتے ہیں۔
قوموں کی زندگی میں بعض سفارتی ملاقاتیں محض تصویروں، مصافحوں اور مشترکہ اعلامیوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ تاریخ کے خاموش اوراق پر ایسے نقوش ثبت کرتی ہیں جو آنے والے زمانوں کی سیاسی سمت، اقتصادی امکانات اور جغرافیائی ترجیحات کا تعین کرتے ہیں۔ کچھ تعلقات مفادات کی عارضی گرمی سے جنم لیتے ہیں اور موسم بدلتے ہی سرد پڑ جاتے ہیں، جب کہ کچھ رشتے تاریخ کے دھارے میں اس طرح ڈھل جاتے ہیں کہ فاصلے، زبانیں، سرحدیں اور بدلتے ہوئے عالمی اتحاد بھی ان کی بنیادوں کو متزلزل نہیں کر پاتے۔
پاکستان اور ترکیہ کا تعلق بھی اسی نوعیت کا رشتہ ہے جس کی بنیاد صرف ریاستی مفادات پر نہیں بلکہ مشترکہ تاریخی شعور، تہذیبی وابستگی، مذہبی ہم آہنگی اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک رہنے کی روایت پر استوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ترک صدر رجب طیب اردوان یہ کہتے ہیں کہ ’’پاکستان اور ترکیہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے‘‘ تو یہ محض سفارتی جملہ نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخ کا خلاصہ ہے جس کے صفحات قربانی، اعتماد، اخلاص اور مسلسل تعاون کی روشن مثالوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کا سب سے مضبوط پہلو عوامی محبت ہے۔ دنیا میں بے شمار ایسے ممالک موجود ہیں جن کے درمیان سفارتی تعلقات تو خوشگوار ہوتے ہیں مگر عوام ایک دوسرے سے زیادہ واقف نہیں ہوتے، لیکن پاکستان اور ترکیہ کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔
برصغیر کے مسلمانوں نے تحریکِ خلافت کے دوران ترک عوام کے لیے جو مالی اور اخلاقی قربانیاں دیں، وہ آج بھی ترکیہ کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہیں۔ اسی طرح پاکستان کو جب بھی قدرتی آفات، زلزلوں، سیلابوں یا دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ترکیہ نے امداد، تعاون اور یکجہتی میں کبھی تاخیر نہیں کی۔ دوستی کی یہی وہ بنیاد ہے جو کسی بھی سرکاری معاہدے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اور ترکیہ جیسے قریبی دوست ممالک کے درمیان تجارت کی موجودہ سطح ان امکانات کی نمائندگی نہیں کرتی جو دونوں معیشتوں میں موجود ہیں۔
ایک جانب ترکیہ دفاعی صنعت، تعمیرات، سیاحت، ٹیکسٹائل مشینری، زرعی ٹیکنالوجی، بحری صنعت اور شہری منصوبہ بندی میں نمایاں مہارت رکھتا ہے، جب کہ دوسری طرف پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت، زراعت، معدنی وسائل، آئی ٹی خدمات، ٹیکسٹائل اور جغرافیائی محلِ وقوع جیسی بے شمار خصوصیات موجود ہیں۔ اگر دونوں ممالک نجی شعبے کو آسانیاں فراہم کریں، بینکنگ روابط بہتر بنائیں، کسٹمز کے پیچیدہ نظام کو سادہ کریں، براہِ راست بحری اور فضائی رابطوں میں اضافہ کریں اور سرمایہ کاروں کو قانونی تحفظ فراہم کریں تو پانچ ارب ڈالر کا ہدف بھی مستقبل میں ایک عبوری منزل ثابت ہو سکتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں تعاون کا اعلان بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے توانائی کے بحران، درآمدی ایندھن پر انحصار اور بڑھتے ہوئے پیداواری اخراجات جیسے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں سمندر اور خشکی میں تیل و گیس کی تلاش، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں، بجلی کی ترسیل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں ترک تجربے سے استفادہ پاکستان کی معیشت کو نئی توانائی فراہم کر سکتا ہے۔ اسی طرح کان کنی اور معدنیات کے شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری دونوں ممالک کے لیے طویل المدتی فوائد کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ پاکستان کے معدنی ذخائر اور ترکیہ کی صنعتی مہارت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ اس ملاقات کا ایک اہم پہلو علاقائی اور عالمی سیاست پر ہونے والا تبادلہ خیال بھی ہے۔
ایسے وقت میں جب دنیا مسلسل نئے تنازعات کا سامنا کر رہی ہے، پاکستان کی جانب سے امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو ترکیہ کی حمایت ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد کی خارجہ پالیسی محض ردِعمل تک محدود نہیں بلکہ وہ مصالحت، مکالمے اور سفارت کاری کو بھی اہمیت دے رہی ہے، اگر پاکستان واقعی خود کو ایک ذمے دار اور متوازن سفارتی کردار کے طور پر منوانا چاہتا ہے تو اسے ایسے اقدامات کو مستقل پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا، کیونکہ آج کی دنیا میں وہی ممالک زیادہ بااثر سمجھے جاتے ہیں جو تنازعات کو بڑھانے کے بجائے ان کے حل میں کردار ادا کرتے ہیں۔اسی طرح دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے بنیادی قومی موقف کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی محض رسمی بیان نہیں۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر قبرص کے معاملے پر ترکیہ کے موقف کی حمایت کا اظہار کیا، جب کہ ترکیہ ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی حمایت کرتا آیا ہے۔
یہ باہمی اعتماد اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو وقتی سیاسی مصلحتوں کے تابع کرنے کے بجائے اصولی بنیادوں پر استوار رکھنا چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسے قابلِ اعتماد شراکت دار بہت کم رہ گئے ہیں جو دباؤ، مفادات یا بدلتے ہوئے عالمی اتحادوں کے باوجود اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے رہیں، اور پاکستان و ترکیہ کی شراکت اسی اعتماد کی مثال بن کر سامنے آتی ہے۔تاہم اس دوستی کی اصل آزمائش اب بیانات میں نہیں بلکہ نتائج میں ہے۔
دفاعی تعاون بھی پاک ترکیہ تعلقات کا وہ ستون ہے جس نے گزشتہ چند برسوں میں نئی مضبوطی حاصل کی ہے۔ جدید جنگی تقاضوں، دفاعی پیداوار، بحری صلاحیتوں، ڈرون ٹیکنالوجی، عسکری تربیت اور دفاعی تحقیق کے میدان میں ترکیہ نے جس رفتار سے پیش رفت کی ہے، وہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔ پاکستان بھی دفاعی صنعت میں اپنی دیرینہ مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا حامل ملک ہے، اگر دونوں ممالک اس شعبے میں محض خریدار اور فروخت کنندہ کے تعلق سے آگے بڑھ کر مشترکہ تحقیق، مشترکہ پیداوار اور نئی دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری کی طرف قدم بڑھائیں تو یہ تعاون نہ صرف دونوں ممالک کی سلامتی کو تقویت دے سکتا ہے بلکہ عالمی دفاعی منڈی میں بھی ایک موثر شراکت داری کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
آج کی دنیا میں عسکری خود انحصاری صرف سلامتی کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی وقار اور معاشی استحکام کا بھی ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل معیشت وہ شعبے ہیں جہاں پاکستان اور ترکیہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پاکستان کی نوجوان آبادی اور تیزی سے ابھرتا ہوا آئی ٹی شعبہ اگر ترکیہ کی صنعتی منصوبہ بندی، تکنیکی مہارت اور یورپی منڈیوں تک رسائی کے ساتھ مربوط ہو جائے تو دونوں ممالک کے لیے نئے معاشی امکانات جنم لے سکتے ہیں۔ آنے والا زمانہ صرف خام مال یا روایتی صنعتوں کا نہیں بلکہ علم، اختراع اور ڈیجیٹل معیشت کا زمانہ ہے۔ جو قومیں اس تبدیلی کو بروقت سمجھ لیں گی، وہی مستقبل کی عالمی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کریں گی۔
سیاحت بھی ایک ایسا شعبہ ہے جسے دونوں ممالک ابھی تک اس وسعت کے ساتھ بروئے کار نہیں لائے جس کا وہ تقاضا کرتا ہے۔ ترکیہ دنیا کے کامیاب ترین سیاحتی ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہر سال کروڑوں افراد تاریخی ورثے، ثقافتی تنوع اور جدید سیاحتی سہولیات سے لطف اندوز ہونے پہنچتے ہیں۔ پاکستان بھی شمالی علاقوں، قدیم تہذیبوں، مذہبی ورثے، صحراؤں، ساحلی پٹی اور قدرتی حسن کے بے مثال خزانے کا مالک ہے، اگر مشترکہ سیاحتی منصوبے، براہ راست فضائی روابط، آسان ویزا پالیسی، مشترکہ ثقافتی میلوں اور سیاحتی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تو یہ شعبہ دونوں معیشتوں میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی روابط بھی مزید مضبوط ہوں گے۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں الفاظ کی حرارت کو فیصلوں کی مضبوطی میں، خیرسگالی کو پائیدار منصوبوں میں اور تاریخی رفاقت کو مشترکہ خوشحالی میں ڈھالنے کی ضرورت ہے، اگر اسلام آباد اور انقرہ اس سمت میں مستقل مزاجی کے ساتھ پیش قدمی کرتے رہے تو یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ پاکستان اور ترکیہ کی دوستی صرف دو ریاستوں کے تعلقات کی داستان نہیں رہے گی بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں باوقار، متوازن اور بااعتماد شراکت داری کی ایک ایسی مثال بن جائے گی جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید روشن، مزید موثر اور مزید قابلِ تقلید ہوتی چلی جائے گی۔