لائیو نشریات کے دوران نیوز اینکر کی آنکھ لگ گئی، پھر کیا ہوا؟

اس غیر متوقع واقعے کی وجہ سامنے آنے کے بعد لوگوں نے اینکر پر تنقید کے بجائے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔


ویب ڈیسک August 08, 2026

امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر میمفس سے تعلق رکھنے والی ٹی وی اینکر ڈومینک ڈیلن اس وقت سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئیں جب وہ لائیو نشریات کے دوران چند لمحوں کے لیے سو گئیں۔

ڈومینک ڈیلن فاکس 13 کے مارننگ شو ’گڈ مارننگ میمفس‘ کی اینکر ہیں۔ 29 جولائی کو پروگرام کے دوران کیمرے کے سامنے بیٹھے بیٹھے انہوں نے چند سیکنڈ کے لیے آنکھیں بند کر لیں اور انہیں اندازہ بھی نہیں ہوا کہ وہ لائیو نشریات میں کب سو گئیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

جب ڈومینک نے آنکھیں کھولیں تو انہیں احساس ہوا کہ کیمرہ اگلے شاٹ پر جا چکا ہے۔ انہوں نے بعد میں اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس صورتحال پر بے حد شرمندہ ہو گئی تھیں اور انہیں لگا جیسے وہ کسی ڈراؤنے خواب سے گزر رہی ہوں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹوڈیو میں موجود پروڈیوسرز کو بھی ابتدا میں اندازہ نہیں ہوا کہ اینکر سو گئی ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ڈومینک اپنے ٹیبلٹ کی طرف دیکھ رہی ہیں۔

اس غیر متوقع واقعے کی وجہ سامنے آنے کے بعد لوگوں نے اینکر پر تنقید کے بجائے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

ڈومینک دو بچوں کی ماں ہیں؛ ان کی بڑی بیٹی دو سال کی جبکہ چھوٹی بیٹی صرف آٹھ ماہ کی ہے۔ واقعے سے ایک رات قبل ان کے شوہر ڈبل شفٹ پر تھے، جس کے باعث بچوں کی دیکھ بھال کی تمام ذمہ داری ڈومینک پر تھی۔

اینکر نے بتایا کہ انہوں نے رات تقریباً 8 بجے بچوں کو سلانے کی کوشش کی، تاہم آٹھ ماہ کی بیٹی دانت نکلنے کی تکلیف کے باعث سو نہیں رہی تھی۔ کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد بچی رات 10:30 سے 11 بجے کے درمیان سو سکی، جس کے بعد ڈومینک کو کام پر جانے سے پہلے صرف چند گھنٹے آرام کا موقع ملا۔

ڈومینک کے مطابق وہ عام طور پر رات ڈیڑھ بجے اٹھتی ہیں تاکہ صبح سویرے شروع ہونے والی اپنی ڈیوٹی کی تیاری کر سکیں۔ یہی شدید تھکن لائیو پروگرام کے دوران ان کی مختصر نیند کی وجہ بنی۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد مختلف ردعمل سامنے آئے، تاہم بیشتر صارفین نے دو بچوں کی ماں اور ورکنگ مدر ہونے کی وجہ سے ڈومینک کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

فاکس 13 نے بھی اپنی اینکر کا دفاع کرتے ہوئے اس واقعے کو ’پاور نیپ‘ قرار دیا اور کہا کہ ڈومینک کی کہانی نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ نئی ماؤں کے لیے ملازمت اور بچوں کی پرورش کے درمیان توازن قائم کرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔