اسلام آباد:
سانحہ پمز سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی انکوائری میں انکشافات کا پنڈورا باکس کھل گیا ہے۔
پمز انتظامیہ نے دسمبر میں جاری سی ڈی اے رپورٹ ردی کی ٹوکری میں ڈال دی، سی ڈی اے نے پمز میں سیفٹی آلات پر سنگین سوالات اٹھائے تھے۔
پمز اسپتال میں آلات کو عصر حاضر کے مطابق بنانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اسپتال میں فائر فائٹر آلات پرانے، ناقص الارم سسٹم اور کوئی بھی حفاظتی اقدام نہیں تھا۔ سی ڈی اے نے پمز انتظامیہ کو کسی بڑے سانحہ کے رونما ہونے کا الرٹ بھی جاری کیا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے سی ڈی اے کا پمز کو لکھا لیٹر سیل کر دیا۔
پمز اسپتال میں آگ بجھانے کے لیے جانے والے فائر بریگیڈ کے عملے کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ڈائریکٹر فائر بریگیڈ نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا۔