یہ جعلی اور ہاری ہوئی حکومت ہے اس کے پاس فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں، فضل الرحمان

پیپلز پارٹی خود کو جمہوری جماعت کہتی ہے لیکن مشرقی پاکستان کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا گیا، سربراہ جے یو آئی


ویب ڈیسک October 15, 2026
فوٹو: فائل

ملتان:

جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو جعلی اور ہاری ہوئی حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کے پاس فیصلے کرنے کی طاقت نہیں۔

ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مفتی محمود نے اپنی زندگی کا نصف حصہ ملتان میں گزارا، ہمارے اکابرین نے مقصد پاکستان کو کبھی فراموش نہیں کیا اور ہم نے امن، سیاست، جمہوریت اور پارلیمان کا راستہ اختیار کیا۔

جے یو آئی کے سربراہ نے کہا ہے کہ غیر جمہوری اقدامات کے خلاف جمعیت علمائے اسلام ڈٹ کر مقابلہ کرے گی، طاقتور طبقے نے ہر دور میں جمہوریت پر شب خون مارا، صوبوں کے حقوق پامال کیے گئے جبکہ عوام غربت اور مہنگائی سے تنگ آکر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل تشکیل دی گئی جس میں آئین، قانون اور شریعت کے ماہرین کو شامل کیا گیا۔ ملکی سیاست میں توازن چاہتے ہیں، تمام ادارے اور مختلف مکاتب فکر ملک کے لیے ناگزیر ہیں، تاہم سوال یہ ہے کہ تقریباً 80 سال بعد بھی ملک معاشی خوشحالی اور آزادی کی منزل تک کیوں نہیں پہنچ سکا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ طاقتور طبقے نے ہر دور میں جمہوریت پر شب خون مارا اور ملک کو محرومیوں کی طرف دھکیلا گیا۔ آئین میں چاروں صوبوں کی خودمختاری طے ہے اور ہر صوبے کو اپنے آئینی و قانونی اختیارات حاصل ہیں، لیکن بار بار صوبوں کے حقوق پامال کیے گئے۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو جمہوری جماعت کہتی ہے، لیکن مشرقی پاکستان کی اکثریت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف صوبوں میں جب بھی گورنر راج نافذ کیا گیا تو جمہوریت کی دعوے دار پیپلز پارٹی نے بھی ایسے اقدامات کیے اور آصف علی زرداری نے ان پر دستخط کیے۔

جے یو آئی سربراہ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے ایک حصے میں گورنر راج جبکہ دوسرے حصے میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ سابق قبائلی علاقوں میں بھی بدامنی کا جواز پیش کرکے ایمرجنسی لگائی گئی، حالانکہ بلوچستان میں حالات زیادہ خراب ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان میں گورنر راج کیوں نافذ نہیں کیا گیا اور کیا اس کی وجہ وہاں ان کی اپنی جماعت کا وزیراعلیٰ ہونا ہے؟

مولانا فضل الرحمان نے الزام عائد کیا کہ صوبے کے دائرہ اختیار میں آنے والے معدنی ذخائر پر وفاق نے ایمرجنسی کے ذریعے کنٹرول حاصل کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر جمہوری اقدامات کے خلاف جمعیت علمائے اسلام بھرپور مزاحمت کرے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ 26 نومبر کو سرگودھا میں بڑا اجتماع کیا جائے گا۔ شہباز شریف سے گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے پوچھا تھا کہ کیا وہ لانگ مارچ کو طاقت کے ذریعے روکیں گے اور کیا 200 شرکا کو شہید کرکے مارچ روکا جائے گا؟ ان کے بقول حکمران ان سے بات کرنے کے لیے بھی دو گھنٹے انتظار نہیں کرسکے۔

انہوں نے افغانستان اور پاکستان کی کرنسی کا موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 46 سال کی جنگوں کے باوجود افغانستان میں ایک ڈالر تقریباً 70 افغانی کے برابر ہے، جبکہ پاکستان میں ڈالر 270 روپے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ غربت اور بھوک سے تنگ آکر لوگ خودکشیاں کررہے ہیں، جبکہ حکمران بڑی کوٹھیوں اور بنگلوں میں عیاشیاں کررہے ہیں اور غریب عوام کی کمر مہنگائی نے توڑ دی ہے۔