لاہور:
ملک بھر میں سرکاری اسپتالوں کا کھربوں روپے کا بجٹ ہے تاہم صحت عامہ کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کی کارکردگی تشویشناک ہے۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق ہر 1,000 افراد کی آبادی کے لیے کم از کم 3 سے 5 اسپتال کے بستر ہونے چاہئیں۔ تاہم ملک میں اس وقت یہ شرح صرف 0.63 بستر فی ہزار آبادی ہے۔
پاکستان کو اپنے موجودہ اسپتالوں اور بیڈز کی تعداد کو کم از کم 5 گنا بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ملک میں تقریباً 1,279 سے زائد بڑے سرکاری اسپتال فعال ہیں۔
پنجاب کے 388 سرکاری اسپتالوں میں 60,191 بیڈز ہیں۔ تقریباً 1,800 افراد کے لیے 1 بستر ہے۔
سندھ میں 473 اسپتالوں میں 39,564 بیڈز ہیں۔ تقریباً 1,400 افراد کے لیے 1 بستر ہے۔
خیبر پختونخوا میں277 ہسپتالوں میں 22,154 بیڈز ہیں۔ تقریباً 1,600 افراد کے لیے 1 بستر ہے۔
بلوچستان میں 132 سرکاری اسپتالوں میں 7,747 بیڈز ہیں۔ تقریباً 1,700 افراد کے لیے 1 بستر ہے۔
اسلام آباد میں 9 اسپتالوں میں 2,571 بیڈز ہیں۔ تقریباً 900 افراد کے لیے 1 بستردستیاب ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے صحت کے شعبے کو 334 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔"صحت کارڈ پلس" کے لیے 50.4 ارب روپے الگ سے مختص کیے گئے ۔
پنجاب کا صحت بجٹ تقریبا 500.6 ارب روپے رہا ہے۔ سندھ نے صحت کے لیے تقریباً 500.62 ارب روپے مختص کیے ۔
بلوچستان کا صحت کا بجٹ 96 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاق نے ملک گیر اور وفاقی علاقوں کے لیے 53.3 ارب روپے صحت کے لیے مختص کیے ہیں۔