احتساب عدالت پشاور نے کہا کہ محکمہ صحت کے میڈیسن کوآرڈینیشن سیل میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے اسکینڈل میں گرفتار ملزم عرفان الحق کو مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ نیب کے حوالہ کردیا۔
محکمہ صحت کے میڈیسن کوآرڈینیشن سیل میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے سکینڈل میں گرفتار کو احتساب عدالت میں دوبارہ پیش کیا گیا، دوران سماعت نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ اور تفتیشی افسر بھی پیش ہوئے، احتساب جج محمد حامد مفل نے ملزم عرفان الحق کو مزید 7 روزہ جسمانی ریمانڈ نیب کے حوالہ کیا۔
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم عرفان الحق پر جعلی دستاویزات کے ذریعے ایم سی سی میں کوالیفائی کرنے کا الزام ہے، ملزم پر سابق ڈی جی ہیلتھ سروسز شوکت علی سے ملی بھگت کا الزام ہے، ملزم کی فرم کو 300 ملین روپے کے 5 پرچیز آرڈرز جاری کیے گئے۔
پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم کو ایک ماہ کے اندر 300 ملین روپے کی مکمل ادائیگی کی گئی، پوری رقم وصولی کے باوجود ملزم نے 69.37 ملین روپے کا سامان فراہم نہیں کیا، چیئرمین نیب نے 16 اپریل 2026 کو ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، نیب کی ٹیم نے ملزم کو گزشتہ روز گرفتار کیا۔۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی ہے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جاتی ہے، عدالت نے مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر ملزم کو نیب کے حوالہ کردیا۔