لاہور کے گرد ایک ہفتے کے دوران آگ لگنے کے 3,712 مقامات کی نشاندہی

بھارتی حدود میں آگ کے مقامات کی تعداد گزشتہ آٹھ برسوں کی اوسط سے نمایاں طور پر کم ریکارڈ ہوئی


آصف محمود November 03, 2026

لاہور کے گرد 300 کلومیٹر کے دائرے میں ایک ہفتے کے دوران آگ کے 3,712 مقامات کی نشاندہی ہوئی، جن میں پاکستان کے 2,753 اور بھارت کے 957 مقامات شامل ہیں۔

پاکستان میں آگ کے مقامات کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد جبکہ 2018 سے 2025 کے دوران اسی عرصے کی اوسط کے مقابلے میں 51 فیصد زیادہ رہی۔

اس کے برعکس بھارتی حدود میں آگ کے مقامات کی تعداد گزشتہ آٹھ برسوں کی اوسط سے نمایاں طور پر کم ریکارڈ ہوئی۔ یہ اعداد و شمار پاکستان ایئر کوالٹی انیشیٹو (پی اے کیو آئی) کے ناسا سیٹلائٹ ڈیٹا پر مبنی تجزیے میں سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 27 اکتوبر سے 2 نومبر 2026 کے دوران پاکستان میں 2,753 فائر ہاٹ اسپاٹس ریکارڈ ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 2,390 تھی۔ 2018 سے 2025 کے دوران انہی تاریخوں میں پاکستان میں آگ کے مقامات کی اوسط تعداد 1,824 رہی۔ دوسری جانب بھارت میں رواں سال 957 مقامات پر آگ کی نشاندہی ہوئی، جبکہ گزشتہ آٹھ برسوں کی اسی عرصے کی اوسط 10,448 تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اور بھارت میں مجموعی فائر ہاٹ اسپاٹس کی تعداد 2018 میں 19,674، 2019 میں 10,563، 2020 میں 21,157، 2021 میں 15,860، 2022 میں 16,118، 2023 میں 6,743، 2024 میں 4,464 اور 2025 میں 3,667 ریکارڈ ہوئی تھی۔ رواں سال یہ تعداد 3,712 رہی۔

پی اے کیو آئی کے تجزیے میں لاہور کی فضائی آلودگی اور آگ کے مقامات کے درمیان تعلق کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوسرے نصف میں آگ کے مقامات بڑھنے کے ساتھ پی ایم 2.5 کی سطح میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

یکم اور 2 نومبر کے قریب لاہور میں پی ایم 2.5 کی روزانہ اوسط تقریباً 220 سے بڑھ کر 285 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی۔ تاہم یہ اعداد و شمار بذات خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ فضائی آلودگی میں اضافے کی وجہ صرف فصلوں کی باقیات جلانا تھا۔
لاہور پہنچنے والی ہواؤں کے ممکنہ راستوں کا جائزہ لینے کے لیے امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کے ہائسپلٹ ماڈل کے ذریعے 500 میٹر بلندی پر گزشتہ 72 گھنٹوں کی ہوائی نقل و حرکت کا تجزیہ کیا گیا۔

نقشے میں افغانستان اور بھارت کی جانب سے لاہور پہنچنے والے فضائی راستے دکھائے گئے ہیں۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق بھارتی شہر امرتسر اور اٹاری کی جانب سے آنے والی ہوائیں بھی لاہور کی فضائی آلودگی کی ایک وجہ ہیں۔ تاہم فضائی راستوں کا تجزیہ آلودگی کے اصل منبع کی حتمی تصدیق نہیں کرتا۔

دوسری جانب ویب سائٹ ہماری ہوا کے 3 نومبر 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سات روز کے دوران فیصل آباد کے گرد 250 کلومیٹر کے علاقے میں 10,494، لاہور میں 10,115، سرگودھا میں 9,537 اور گوجرانوالہ میں 8,836 مقامات پر آگ کے نشانات ریکارڈ ہوئے۔ بھارتی پنجاب کے امرتسر میں یہ تعداد 8,892، لدھیانہ میں 6,853 اور چندی گڑھ میں 3,210 رہی۔