واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اہم مشاورت کی ہے۔
امریکی حکام نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بدھ اور جمعرات کو اعلیٰ سطح کے اجلاس ہوئے۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق ان اجلاسوں میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں اور جنگ دوبارہ شروع کرنے سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مشاورت کے دوران کیا فیصلے کیے گئے یا کسی نئے آپریشن کی منظوری دی گئی ہے۔
فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں 9 نومبر کو مشرقِ وسطیٰ میں نئے چاند کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اس رات چاندنی نہ ہونے یا انتہائی کم ہونے کے باعث اندھیرا زیادہ ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ایسی ماحولیاتی صورتِ حال بعض فوجی کارروائیوں کے لیے فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔
تاہم چاند کی اس کیفیت کو کسی ممکنہ امریکی حملے کی حتمی تاریخ یا کارروائی کے منصوبے کی تصدیق نہیں سمجھا جاسکتا۔
اس سے قبل جمعرات کو اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں جلد فیصلہ کرے گا۔
امریکی صدر کے اس بیان اور قومی سلامتی ٹیم کے اجلاسوں کے بعد خطے میں دوبارہ فوجی کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں، تاہم امریکی حکومت کی جانب سے کسی نئے حملے کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔