جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں جینیاتی بیماری اسپائنل مسکولر ایٹروفی (ایس ایم اے) میں مبتلا بچوں اور بالغ مریضوں کے لیے حکومت سندھ نے مہنگے ترین علاج کی مفت فراہمی کا عملی آغاز کردیا اور انمول پروگرام کے تحت رجسٹرڈ 25 مریضوں کو 13 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے ریسڈیپلام سیرپ کی پہلی بوتل فراہم کردی گئی ہے، مریضوں میں 21 بچے اور 4 بالغ افراد شامل ہیں اور محکمہ صحت سندھ نے ان مریضوں کے چار سالہ علاج کے لیے 26 کروڑ روپے مختص کردیے ہیں۔
جناح اسپتال انتظامیہ کے مطابق محکمہ صحت سندھ کے تعاون سے اسپتال میں ایس ایم اے کے مریضوں کا مفت علاج شروع کردیا گیا ہے اور انمول پروگرام کے تحت رجسٹرڈ تمام 25 مریضوں کو دوا کی پہلی بوتل فراہم کردی گئی ہے، پروگرام کے تحت ہر مریض کو سالانہ 24 بوتلیں فراہم کی جائیں گی، اس طرح چار سال کے دوران ایک مریض کو مجموعی طور پر 96 بوتلیں مفت فراہم کی جائیں گی۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ ریسڈیپلام سیرپ کی ایک بوتل کی قیمت 13 لاکھ روپے سے زائد ہے، جس کے باعث اس بیماری کا علاج عام خاندانوں کی مالی استطاعت سے باہر ہے، روش پاکستان کے تعاون سے دوا کی خریداری کے معاہدے کے تحت ایک بوتل خریدنے پر مزید تین بوتلیں مفت فراہم کی جائیں گی، اس طرح مریضوں کو علاج کے لیے درکار دوا کی فراہمی میں معاونت حاصل ہوگی۔
حکومت سندھ نے انمول پروگرام کے تحت مریضوں کے علاج کے لیے 26 کروڑ روپے مختص کیے ہیں تاکہ مستحق مریضوں کو مہنگی دوا کے باعث علاج سے محروم نہ رہنا پڑے، جناح اسپتال میں شروع کیا جانے والا یہ پروگرام اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اس میں صرف کم عمر بچوں کو ہی نہیں بلکہ ایس ایم اے سے متاثرہ بالغ مریضوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں 25 مریضوں کی رجسٹریشن اور دوا کی فراہمی کے بعد اب مزید اہل مریضوں کی رجسٹریشن کے لیے خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا، جو مریضوں کی بیماری، تشخیصی رپورٹس اور دیگر طبی دستاویزات کا جائزہ لے گا، ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم تشخیص کی تصدیق اور مریض کی علاج کے لیے اہلیت کا تعین کرے گی، جس کے بعد اہل مریضوں کو جے پی ایم سی کے انمول پروگرام میں رجسٹر کرکے حکومت سندھ کے خرچ پر دوا فراہم کی جائے گی۔
جناح اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق خصوصی میڈیکل بورڈ کے ذریعے رجسٹریشن کا نظام متعارف کرانے کا مقصد یہ ہے کہ مریضوں کی طبی حالت کی تصدیق، علاج کی ضرورت اور اہلیت کا تعین شفاف طبی طریقہ کار کے تحت کیا جاسکے اور سرکاری وسائل حقیقی مستحق مریضوں تک پہنچائے جاسکیں۔
طبی ماہرین کے مطابق اسپائنل مسکولر ایٹروفی ایک موروثی جینیاتی بیماری ہے، جو جسم کے پٹھوں کو کنٹرول کرنے والے اعصابی خلیات کو متاثر کرتی ہے، اس بیماری میں بتدریج پٹھے کمزور ہونے لگتے ہیں اور مریض کو بیٹھنے، چلنے پھرنے اور جسمانی حرکات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بیماری کی شدت بڑھنے پر بعض مریضوں کو خوراک نگلنے اور سانس لینے میں بھی دشواری پیش آسکتی ہے، جس کے باعث انہیں مسلسل طبی نگرانی اور خصوصی علاج کی ضرورت ہوتی ہے، ایس ایم اے کے علاج کے لیے ریسڈیپلام ایک مخصوص دوا ہے، جو بیماری کی پیش رفت کو سست کرنے میں مدد دیتی ہے، اس دوا کی مسلسل فراہمی علاج میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ اس دوا کے 4 سال تک مستقل استعمال سے مریض عام زندگی کی طرف لوٹ سکتا ہے۔