حوثیوں کا سعودی عرب میں یکے بعد دیگرے چھ فوجی حملوں کا دعویٰ

سعودی عرب کے اندر اور یمن میں موجود فوجی تنصیبات اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔


ویب ڈیسک November 07, 2026
یمن میں 48 گھنٹوں میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپ میں 100 ہلاکتیں (اے آئی سے بنوائی گئی تصویر)

یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب میں تیل کی بڑی کمپنی آرامکو کی تنصیبات، ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حوثی ترجمان کے مطابق ہفتے کے روز مجموعی طور پر چھ فوجی کارروائیاں کی گئیں، جن میں سعودی عرب کے اندر اور یمن میں موجود فوجی تنصیبات اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔

حوثی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق ان کارروائیوں میں کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو میزائل حملے کا ہدف بنایا گیا۔ 

ریاض میں تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں اور آئل پروسیسنگ سے متعلق ایک ڈسٹلیشن ٹاور کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔

سعودی عرب کے اہم تیل پیدا کرنے والے علاقے خریص میں آرامکو کی تنصیبات پر حملے کا دعویٰ سامنے آیا۔

دوادمی کا پمپنگ اسٹیشن نمبر 8 میں تیل کی ترسیل سے متعلق تنصیب کو بھی مبینہ کارروائی کا ہدف بتایا گیا۔

نجران میں سعودی نیشنل گارڈ کیمپ میں فوجی اہلکاروں کے اجتماع کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔

یمن کے صوبوں الجوف اور مارب میں سعودی حمایت یافتہ فوجی اہداف پر حملوں کا بھی دعویٰ کیا گیا۔

حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں بعض اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا اور سعودی فوجی اہلکاروں کو بھی نقصان پہنچا۔

تاہم ان دعوؤں کے حق میں مکمل تفصیلات یا آزادانہ شواہد سامنے نہیں آئے۔

دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحادی افواج نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ یمن سے ریاض کے صوبے کی جانب داغے گئے ایک میزائل کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے فضا میں ہی روک کر تباہ کردیا گیا۔

سعودی حکام کے مطابق میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا۔ اس واقعے کے حوالے سے فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔

یمن میں حوثی گروپ اور سعودی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان لڑائی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔

حوثی گروپ کو ایران کی سیاسی اور عسکری حمایت حاصل ہے جبکہ سعودی عرب یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے حالیہ کارروائیوں کو یمن میں سعودی فضائی حملوں کے ردعمل کے طور پر پیش کیا ہے۔

گروپ نے الزام عائد کیا کہ سعودی حملوں میں یمن کے مختلف علاقوں میں شہری آبادی کو بھی نقصان پہنچا۔

حوثی میڈیا کے مطابق صنعا کے صوبے میں ایک فضائی حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ تاہم ان واقعات کی تفصیلات کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

سعودی عرب دنیا کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور آرامکو کی تنصیبات پر کسی بھی بڑے حملے کے دعوے کو عالمی توانائی مارکیٹ میں خاص اہمیت حاصل ہے۔

اسی طرح ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے دعوے سے شہری ہوابازی اور مسافروں کی سلامتی کے حوالے سے بھی تشویش بڑھ سکتی ہے۔

یمن کے ساحلی علاقوں اور بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث باب المندب جیسے اہم عالمی تجارتی بحری راستے کی سکیورٹی بھی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔