عجیب و غریب بھائیوں کی غریب و عجیب کہانی

پیارے بچو اور بچوں کے اچھو، یہ کہانی بہت پرانی دادی یا نانی کی تو نہیں ہے لیکن پھر بھی کہانی ہے ہم نے سنانی ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq June 04, 2015
[email protected]

ISLAMABAD: پیارے بچو اور بچوں کے اچھو، یہ کہانی بہت پرانی دادی یا نانی کی تو نہیں ہے لیکن پھر بھی کہانی ہے ہم نے سنانی ہے اور آپ نے ہماری زبانی سننی ہے، راوی کے ساتھ چناب ،سندھ، کابل اور ستلج بیاس متفقہ طور پر بتاتے ہیں کہ ایک تھا ملک نام جس کا ناپرسان تھا پہلے اس کا نام اندھیر نگری تھا جس پر ایک چوپٹ راجہ حکومت کرتا تھا لیکن پھر جب ایک پویٹ نے اس پر سبزہ جما لیا تو اس نے سارا انتظام اپنی بیٹی بجریا عرف بجلی کو سونپا، شہزادی بجریا اندھیرے کی عاشق تھی اور ایک کالے حبشی لوڈ شیڈنگ سے محبت کرتی تھی اس لیے اس نے اس کا نام ناپرسان رکھا اور آرڈیننس جاری کیا کہ آج سے یہاں پر کوئی کسی سے بھی کوئی پرسان نہیں کرے گا۔

ناپرسان میں ایک ''غریب'' رہتا تھا جس کی بیوی عجیب تھی عجیب و غریب مل کر اتحاد اتفاق اور یک جہتی سے ایک ہوم پروڈکشن چلاتے تھے اور عجیب و غریب بچے پروڈیوس کرتے تھے، دونوں بڑے بچوں کے نام للو اور پنجو تھے للو کو اس کے ظالم باپ اور سنگ دل ماں نے ایک مستری کے پاس رکھوایا اور پنجو ایک راج یعنی معمار کے پنجوں میں آگیا، وہ دونوں ان معصوم بچوں پر بڑا ظلم کرتے تھے صبح سویرے اٹھاتے تھے اور شام اندھیرے تک مار مار کر کام کراتے تھے۔

بے چارے بچے شام کو گھر آکر پڑے رہتے، نہ ان کو ٹی وی دیکھنے کا موقع ملتا نہ کرکٹ کھیلنے کا اور تو اور دونوں کو سیر سپاٹے اور پکنک منانے بھی جانے نہیں دیا جاتا تھا، للو اور پنجو پر مظالم کا سلسلہ جاری تھا کہ اتنے میں ہوم پروڈکشن سے دو نئے پراڈکٹ نکلے، علمو اور فضلو، ان کی خوش قسمتی سے گاؤں کے خان دوسرے گاؤں سے چائلڈ لیبر کا فیشن لے آیا جو وہاں کا خان شہر سے اور شہر کے لوگ کسی باہر ملک سے لے کر آیا تھا، فیشن تو فیشن ہوتا ہے جب چلتا ہے تو پھر چلتا چلا جاتا ہے چنانچہ اس ناپرسان کے لوگ بھی جوتوں اور شلوار کے بغیر یہ ''سرخ جراب'' پہننے لگے اور ایک دوسرے کو دکھا کر داد وصول کرنے لگے ایک گانا بھی ان دنوں پاپولر ہو گیا

موہے لالیاں جرابیاں لیا دے
جے تو میری ٹور ویکھنی

ایک دوسرے کی ''ٹور'' دیکھتے دیکھتے پورا ناپرسان پہلے ٹور پھر ٹوری اور پھر ٹورسٹ ہو گیا

رفتہ رفتہ وہ میری بستی کا شیطاں ہو گیا
پہلے خاں پھر خان جی پھر خان خاناں ہو گیا

اصل میں ناپرسان کی مٹی کچھ ایسی زرخیز تھی کہ ذرا سی نم ہو کر لہلہانے لگتی تھی خاص طور پر فیشن ایبل نعروں کے لیے یہ زمین بڑی سازگار تھی چنانچہ دنیا کے سوداگر طرح طرح اور بھانت بھانت کے نعرے ایجاد کر کے یہاں لاتے تھے جو منہ مانگے داموں پر ہاتھ ہاتھ نکل جاتے، چونکہ ''ناپرسان'' میں ہر قسم کے ''مواقع'' نہایت وافر تھے اس لیے دنیا بھر کے سوداگر یہاں وارد ہو کر کوئی نہ کوئی نعرہ بیچنے لگے، ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر ان سوداگروں کو ''این جی اوز کمپنی'' کہتے تھے، چونکہ چائلڈ لیبر کا نعرہ بہت زیادہ پرکشش تھا کیوں کہ اس میں کشش اور چمک کے ساتھ ساتھ ثواب کا اضافی پیکیج بھی تھا اور ہر رنگ و نسل ذات برادری کے ''مواقع'' بھی بہت تھے اس لیے بچوں کے حقوق کا غلغلہ سب سے زیادہ بلند تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے ناپرسان میں تعلیم کی دکانیں اسٹور گودام کھل گئے حتیٰ کہ تعلیم کے ریڑھے چھابڑیاں بھی گلی گلی جم گئیں چنانچہ عجیب و غریب ہوم پروڈکشن کا تازہ مال علمو اور فضلو بھی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکول میں داخل ہو گئے اور تعلیم کے زیور سے مزین ہو کر ملک کا نام روشن کرنے لگے حالانکہ وہ ملک و قوم کا نام روشن کرنے کے لیے جو روشنائی استعمال کرتے تھے وہ سیاہی کہلاتی تھی، صبح سویرے علمو اور فضلو سب سے پہلے پورے اسکول کے ساتھ ترانہ گاتے تھے کہ

پڑھو گے لکھو گے تو ہو گے جناب
کھیلو گے کودو گے تو ہو گے ''نواب''
کرو گے بھرو گے تو ہو گے خراب

دیکھتے ہی دیکھتے پورا ناپرسان پڑھ لکھ کر نواب بن گیا اس کے بعد جناب بن گیا سارے لوگ نواب کی طرح پھرتے تھے اور جنابوں کی طرح بیٹھتے تھے، راوی چین ہی چین لکھتا تھا اور چناب عین ہی عین پڑھتا تھا اور اس کے بعد سب کچھ عین غین ہو گیا کیوں کہ مملکت ناپرسان میں لٹریسی ایک سو چار فیصد ہو گئی، انسانوں کے علاوہ گھروں کی چاروں دیواروں پر لکھائی پڑھائی ہونے لگی، ادھر للو ٹرانسپورٹر بن گیا اور پنجو نے ٹھیکیداری کا کام شروع کر دیا، علمو اور فضلو ایم اے کرنے کے بعد یہ لمبی لمبی چمک دار ڈگریاں لیے ہوئے گھر پہنچے تو عجیب و غریب دونوں میاں بیوی اس خوشی میں چٹ پٹ ہو گئے لیکن یہ بالکل معلوم نہیں ہو سکا کہ چٹ کون ہو گیا اور پٹ کون؟ لیکن لوگوں کے لیے یہ بھی کافی تھا کہ عجیب و غریب چٹ و پٹ ہو گئے اور ان کے ہوم پروڈکشن کو تالا پڑ گیا۔

اب ہوتا یوں تھا کہ علمو اور فضلو صبح سویرے منہ اندھیرے اپنی ڈگریاں اور درخواستیں لے کر چل پڑتے تھے اور دفتر دفتر پھر کر لیلیٰ لیلیٰ پکارتے تھے۔دونوں نے سوچا کہ کوئی کام تو کرنا ہے اس لیے کیوں نہ کام ڈھونڈنے کا کام شروع کر دیں سو دونوں پوری محنت سے کام ڈھونڈنے کا کام کرنے لگے، اس بے پناہ مصروفیت میں ان کو پتہ بھی نہیں چلا کہ کب ان کے گھر سے روٹی روٹھ کر کہیں چلی گئی، دونوں نے بہت ڈھونڈا لیکن پتہ نہیں چلا کہ ناہنجار روٹی کہاں جا کر منہ کالا کر گئی، دونوں صبح سویرے اپنی کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتے تھے کہ کہیں روٹی ان میں چھپ کر تو نہیں بیٹھی ہوئی لیکن تلاش بسیار کے بعد بھی روٹی ویسی کی ویسی روٹھی رہی ہے تو بے چارے اپنی کتابوں کو اپنے اوپر لاد کر کورس میں گانے لگے کہ

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

اس پر کتابوں کو غیرت آگئی اور انھوں نے ان دونوں کو روٹی دے دی، ایک کباڑی نے ساری ردی خرید کر دو وقت کی روٹی دے دی کیونکہ ترازو کے پلڑے میں دو روٹیوں کے مقابل کتابوں کا پلڑا پھر بھی اونچا رہا تھا، روٹی پھر ختم ہو گئی تو دونوں پھر نکل پڑے اب بیچنے کو سوائے اپنے آپ کے کچھ بھی نہ تھا، دونوں نے ایک دوسرے کو اپنی پیٹھ پر لادا گلی گلی پھرے لیکن کسی نے بھی نہیں خریدا، کیونکہ ناپرسان کے سارے لوگ ایک دوسرے کے گلے میں رسی ڈال کر یا پیٹھ پر لاد کر بیچنے نکلے تھے

ناپرسان کوئی مصر کا بازار نہیں ہے
یوسف ہیں یہاں بہت خریدار نہیں ہے

کیونکہ ناپرسان کے سارے لوگ ایک سو چار فیصد لٹریسی حاصل کر چکے تھے اور کوئی ایسا ویسا کام نہ تو کر سکتے تھے نہ کرنا چاہتے تھے اگر کام ہی کرنا تھا تو پڑھے کیوں؟ چنانچہ کھیت ویران ہو گئے کھلیانوں میں ٹاؤن شپ بن گئے غلہ منڈی، سبزی منڈی اور فروٹ منڈی میں یہ سر بفلک پلازے اور مارکیٹ اگ آئے اور ساری دکانوں میں ڈگریاں ڈیری والوں سمیت فروخت کے لیے رکھ دی گئیں۔

علمو اور فضلو ایک دن شام کو گھر آئے تو ان کے بھائیوں بلکہ جاہل ان پڑھ گنوار اجڈ بھائیوں للو پنجو کے گھر سے کھسر پھسر اور کھلکھلانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں برتنوں کے جلترنگ بج رہے تھے اور طرح طرح کے کھانوں اور بگاروں کی لپٹیں اٹھ رہی تھیں دونوں نے جھانکا تو وہ کم بخت روٹھی ہوئی روٹی ان کے بھائیوں سے بغل گیر ہو رہی تھی، بے چاروںکو سخت بھوک لگی تھی اور یہاں روٹی کے جلوے دیکھ کر دونوں اور بھی مر بھکے ہو گئے اور چھلانگ مار کر بھائیوں کے آنگن میں کود گئے اور ایک ساتھ بول پڑے

کودا ترے گھر میں کوئی یوں دھم سے نہ ہو گا
جو کام کیا ہم نے وہ رستم سے نہ ہو گا

دونوں روٹی پر ٹوٹ پڑے لیکن روٹی نے چپل نکال کر خوب مارا اور ان کے جاہل اجڈ اور گنوار بھائیوں سے لپٹ گئی، دونوں کو ہوش آگیا بلکہ ہوش کے ناخن نکل آئے تب بھائیوں کے پیر پڑے کہ تھوڑی سی روٹی ہمیں بھی دے دو لیکن پڑھے لکھے تھے اس لیے جاہلانہ طریقے پر نہیں بلکہ ایجوکیٹڈ انداز میں ... اور بزبان انگریزی بھیک مانگنے لگے۔