پاکستان سے سیریز ڈالرز آتے دیکھ کر بھارت کی رال ٹپکنے لگی

مقابلوں کے انعقاد میں حکومتی اجازت کا معاملہ بھی حل طلب ہے،ذرائع


Sports Reporter November 24, 2015
جائلز کلارک کی پریس کانفرنس نہ ہوسکی،27نومبر کوکوئی اعلان ہو جائے گا(بھارتی میڈیا)دونوں بورڈ کو اپنی حکومتوں سے پوچھنا ہے،فی الحال کچھ نہیں بتا سکتا،شہریار فوٹو:اےایف پی/فائل

پاکستان سے سیریز میں ڈالرز آتے دیکھ کر بھارت کی رال ٹپکنے لگی،بورڈ نے آمدنی سے حصہ طلب کر لیا، دوسری جانب پی سی بی ''ہوم سیریز'' سے کمانے والی رقم کسی کو دینے پر آمادہ نہیں لگتا، مقابلوں کے انعقاد میں حکومت اجازت کا معاملہ بھی حل طلب ہے، اتوار کو شہریارخان نے اعلان کیا تھا کہ ثالث جائلز کلارک پیر کے روز سیریز کی تفصیلات کا اعلان کریں گے مگردن بھر میڈیا انتظار کرتے رہا پریس کانفرنس کا انعقاد نہ ہو سکا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 27نومبر کو اس حوالے سے کوئی اعلان ہو جائے گا۔ ادھر چیئرمین پی سی بی کے مطابق دونوں بورڈ کو اپنی حکومتوں سے پوچھنا ہے،میں فی الحال کچھ نہیں بتا سکتا، وزیر اعظم سے ملاقات کا امکان نہیں تاہم انھیں تمام معاملات سے آگاہ کردوں گا، بی سی سی آئی کے صدر ششانک منوہر کو تحریری طور پر پیش رفت کے بارے میں بتا دیں گے۔

دوسری جانب سیریز میں3 ون ڈے اور 2ٹی ٹوئنٹی میچزکا امکان ہے،سری لنکا نے میزبانی کیلیے کولمبو اور پالے کیلی کے نام تجویزکردیے۔تفصیلات کے مطابق انگلش کرکٹ بورڈ کے صدراور آئی سی سی ٹاسک فورس برائے پاکستان کے سربراہ جائلز کلارک بھی تاحال پاک بھارت سیریز پر ڈیڈ لاک کھولنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

گذشتہ روز اس حوالے سے اعلان شدہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی نہ ہو سکا، حکومتوں کی اجازت سمیت کئی امور کا فیصلہ ہونا باقی ہے، کوئی واضح پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے ہی جائلز کلارک کی پیر کو متوقع پریس کانفرنس بھی نہ ہوسکی، اب بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ27نومبر کو کوئی اعلان ہو جائے گا، ذرائع کے مطابق کئی معاملات میں ڈیڈ لاک برقرار اور سرفہرست مالی امور ہیں، پاکستان اپنی ہوم سیریز سے ملنے والی رقم اپنے پاس رکھنے کا خواہاں جبکہ بھارت کی خواہش ہے کہ اسے حصہ دیا جائے،دونوں بورڈزکوکسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل میڈیا رائٹس کا معاملہ بھی طے کرنا ہے۔

پی سی بی کا جس چینل سے معاہدہ ہے وہ بی سی سی آئی کو نہیں بھاتا، سری لنکا سیریز کرانے کیلیے تیار مگر اپنے اسٹیڈیمز اور سہولیات کے استعمال کا بھاری معاوضہ وصول کرنے کی آس لگائے بیٹھا ہے۔ گذشتہ روز لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہا کہ آئی سی سی ہیڈکوارٹرز میں بی سی سی آئی کے صدر ششانک منوہر سے ملاقات سود مند رہی، اس حوالے سے جوبھی تفصیلات ہیں اس پر جائلز کلارک ہی بریفنگ دیں گے، چند دنوں میں چیزیں واضح ہوجائیں گی، ہم نے یہ وعدہ کیا ہے کہ میٹنگ کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جائے گی۔

اس لیے فی الحال اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وزیر اعظم نواز شریف کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ ممکن نہ ہونے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ دبئی میں ملاقات کے دوران میرا اور ششانک منوہر دونوں کا کہنا تھا کہ اپنی حکومتوں سے پوچھنا ہے،اسی لیے فی الحال سیریز کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا،شہریار خان نے کہا کہ وزیر اعظم بیرون ملک جا رہے ہیں،ابھی فوری طور پر ان سے ملاقات کا امکان نہیں تاہم انھیں سب معاملات سے آگاہ کردوں گا۔

نواز شریف کے مشیربرائے قومی سلامتی امور سرتاج عزیز کا بیان تھا کہ بھارت نیوٹرل وینیو پر کھیلنے کو تیار نہیں تو ہم بھی نہیں کھیلیں گے،اس بارے میں چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ وہ ایک معتبر شخصیت ہیں،ان کا کہنا اپنی جگہ لیکن پی سی بی کی پوزیشن یہی ہے کہ دسمبر میں ہماری ہوم سیریز ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا، ششانک منوہر کوبھی معاملات سے تحریری طور پر آگاہ کروں گا۔

انھوں نے کہا کہ سری لنکا کی جانب سے میزبانی میں دلچسپی کا سن کر خوشی ہوئی لیکن ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا، میڈیا رائٹس کے معاملات قلیل وقت میں مکمل ہونے کے سوال پر چیئرمین نے کہاکہ اس میں کوئی مسائل نہیں ہونگے۔ ذرائع کے مطابق شہریار خان سے ملاقات میں ششانک منوہر یواے ای میں نہ کھیلنے کے موقف پر ڈٹے رہے، ڈیڈلاک کی اس صورتحال میں سری لنکا میں سیریز کی تجویز سامنے آئی جس پر دونوں بورڈز متفق بھی تھے۔

اب حکومتوں کی اجازت اور دیگر معاملات طے کرنے کیلیے وقت لیا گیا ہے، جنوبی افریقہ کا دورئہ بھارت7دسمبر کو ختم ہوگا،بعد ازاں بھارتی ٹیم 12جنوری کو آسٹریلیا روانہ ہوگی،دونوں سیریز کے درمیانی وقفے میں 3 ون ڈے اور 2ٹی ٹوئنٹی میچز کی گنجائش موجود ہے۔

اس دوران سری لنکا میں کھیل بارشوں سے متاثر ہونے کے خدشات بھی کم ہوں گے، سری لنکن بورڈ آفیشل کا کہنا ہے کہ پاک بھارت مقابلوں کی میزبانی کیلیے کھیتاراما اور پالے کیلی مضبوط امیدوار ہوسکتے ہیں، کولمبو اور کینڈی میں بارشوں کا سلسلہ دسمبر کے آخر میں ختم ہوگا، کیتھا رامامیں 23اور 30دسمبر کو ڈومیسٹک میچز شیڈول ہیں لیکن انھیں کہیں اور منتقل کیا جاسکتا ہے، پالے کیلی کے میدانوں پر کوئی سرگرمی نہیں ہوگی۔

مقبول خبریں