کیویز نے اسپن جال بچھا دیا پاکستانی کوچ چوکنا

دبئی کی سازگارکنڈیشنز میں بشوکے ہاتھوں بیٹنگ کی تباہی یاد، بہترین حکمت عملی بنانا پڑے گی، آرتھر


Sports Desk November 12, 2016
دونوں ٹیموں کو سیم، سوئنگ، پیس اور اسپن کے ہتھیاروں سے لیس بہترین بولرز کی خدمات حاصل ہیں۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے لیے کیویز نے اسپن جال بچھا دیا، میزبان ٹیم میں ٹوڈ ایسٹل کی شمولیت نے پاکستانی کوچ مکی آرتھر کو چوکنا کر دیا، انھیں گذشتہ دنوں دبئی کی سازگار کنڈیشنز میں ویسٹ انڈین اسپنر دیویندرا بشو کے ہاتھوں اپنی بیٹنگ کی تباہی یاد ہے.

ایسٹل کو حریف کے لیے ٹرمپ کارڈ قرار دیتے ہوئے آرتھر نے کہا کہ لیگ اسپنر نیوزی لینڈکے لیے یاسر شاہ کا کردار ادا کرسکتے ہیں، گرین کیپس سلوبولنگ پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اصل امتحان میدان میں ہوتا ہے، پچ، کنڈیشنز اور حریف بولر کو دیکھتے ہوئے اپنی بہترین حکمت عملی بنانا پڑے گی،دونوں ٹیموں کو سیم، سوئنگ، پیس اور اسپن کے ہتھیاروں سے لیس بہترین بولرز کی خدمات حاصل ہیں، ٹاپ7بیٹسمین قدم قدم پر آزمائش سے گزریں گے،زیادہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیم سرخرو ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ نے پاکستان سے2ٹیسٹ کی سیریز کیلیے جمعرات کو اسکواڈ کا اعلان کردیا تھا، تجربہ کار اوپنر مارٹن گپٹل پر ڈیبیو کے منتظر جیت راول کو ترجیح دی گئی، جارح مزاج آل راؤنڈر کولن ڈی گرینڈ ہوم نے ابھی طویل فارمیٹ کا کوئی میچ نہیں کھیلا لیکن جمی نیشم کو بینچ پر بٹھاکر انھں میدان میں اتارا جا سکتا ہے، سب سے دلچسپ انٹری ٹوڈ ایسٹل کی ہوئی جنھوں نے اپنا واحد ٹیسٹ2012میں سری لنکا کیخلاف کھیلا تھا، مچل سینٹنر کی انجری نے لیگ اسپنر کا راستہ صاف کیا۔

نیلسن میں موجود مہمان ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ کیوی سلیکشن کمیٹی نے کچھ بڑے فیصلے کیے جو شاید درست بھی ہیں، ٹیم کی صورتحال کو قریب سے جانتے ہوئے انھوں نے کئی تبدیلیوں کی ضرورت محسوس کی، نیوزی لینڈ کو آئندہ کئی ٹیسٹ میچز کھیلنا ہیں، سلیکٹرز نے مختلف امور کو ذہن میں رکھا ہوگا، انھوں نے مارٹن گپٹل کو ڈراپ کرنے سمیت کئی بڑے اور مشکل فیصلے کیے،اوپنر بازی پلٹ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن اعداد و شمار ان کے حق میں نہیں، میں سلیکٹرز کے فیصلوں کا احترام کرتا ہوں۔

آرتھر نے ٹوڈ ایسٹل کے انتخاب کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیویز نے کرائسٹ چرچ میں شیڈول پہلے ٹیسٹ میں 4پیسرز کھلائے تو انھیں لازمی طور پر پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا جائے گا، لیگ اسپنرز وکٹیں حاصل کرنے والے بولرز ہوتے ہیں، ہمیں یاسر شاہ کی صورت میں ایک ایسا ہی مہلک ہتھیار میسر ہے،یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پچ سے زیادہ سپورٹ نہ ملنے پر ٹوڈ ایسٹل دفاعی پلان اور رنز روکنے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔

ہیڈ کوچ نے کہا کہ پاکستانی بیٹسمین نیٹ میں یاسر شاہ کا سامنا کرتے اور سلوبولنگ پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اصل امتحان میدان میں ہوتا ہے،پچ، کنڈیشنز اور حریف بولر کو دیکھتے ہوئے ہی اپنی حکمت عملی بنانا پڑتی ہے،ہمارے کھلاڑیوں کو اپنے کیریئر میں زیادہ تر سلوبولنگ کھیلنے کا موقع ملا،اس لیے شاید زیادہ پُراعتماد ہوں لیکن ٹوڈ ایسٹل کی کارکردگی اہم ہوگی، لیگ اسپنر کے اعدادوشمار تو ان کو ایک جارحانہ بولر ثابت کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ غیر مستقل مزاجی کے لیے مشہور پاکستان ٹیم متحدہ عرب امارات میں ٹیسٹ سیریز کے پہلے میچ میں لیگ اسپنر دیویندرا بشو کے وار سہہ نہیں پائی تھی، لیگ اسپنر نے 8شکار کرتے ہوئے میزبان بیٹنگ لائن کو صرف 123پر ڈھیر کردیا تھا۔

ایک سوال پر مکی آرتھر نے کہا کہ کرائسٹ چرچ کے ہیڈ گراؤنڈ مین کی جانب سے سپورٹنگ پچ بنانے کے بیان پر کوئی حیرت نہیں ہوئی، وہاں عام طور پر اسی نوعیت کی وکٹ ہوتی جو ٹیسٹ کرکٹ کے لیے موزوں بھی ہے، وہاں گیند سیم اور سوئنگ ہوگی، ہمارے پاس بھی ان کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کی بھرپور صلاحیت رکھنے والے پیسرز موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کو سوئنگ، سیم، پیس اور اسپن کے ہتھیاروں سے لیس بہترین بولرز کی خدمات حاصل ہیں،دونوں ٹیموں کے ٹاپ 7 بیٹسمین قدم قدم پر آزمائش سے گزریں گے، زیادہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے والی ٹیم ہی سرخرو ہوگی۔

 

مقبول خبریں