جعلی ووٹ ڈالنے پر 5سال قید ایک لاکھ جرمانہ ہوگا الیکشن کمیشن

الیکشن پرثراندازہونیوالے کو50ہزارجرمانہ ہوگا،امیدواروںکی نامزدگی فیس میں12گنااضافہ


Numainda Express January 24, 2013
مسودہ قانون منظور،ٹرن آئوٹ50فیصداورلازمی ووٹ کیلیے قانون سازی کی سفارش،الیکشن پرثراندازہونیوالے کو50ہزارجرمانہ ہوگا،امیدواروںکی نامزدگی فیس میں12گنااضافہ فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن نے انتخابی اصلاحات سے متعلق بل کے مسودے کی منظوری دیدی ہے، بھرتیوں پرپابندی کے خلاف حکومتی اعتراض مستردکردیا گیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنرجسٹس(ر)فخرالدین جی ابراہیم کی زیر صدارت اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے بل پرطویل غورکے بعد مسودے کی منظوری دی گئی جس کے تحت جعلی ووٹ ڈالنے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ اور5 سال تک قیدکی سزا تجویز کی گئی ہے۔انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے پر سزائوں اورجرمانے میں30 سال بعدغیر معمولی اضافہ کیا گیاہے۔ووٹر پر دبائو ڈالنے، رشوت دینے، پولنگ اسٹیشن پرقبضہ کرنے اورانتخابی اخراجات کی حد سے تجاوز کرنے والے کو بھی اسی سزا کا سامنا کرنا پڑیگاجبکہ بیلٹ پیپر پھاڑنے، گالم گلوچ کرنے اور برادری کی بنیاد پر ووٹر پر اثر انداز ہونے والے کو50 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کیلیے امیدوارکی فیس (12 گنا اضافہ)4ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن کیلئے فیس2 ہزار سے بڑھا کر25 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کیلیے نئے ضابطہ اخلاق کی بھی منظوری دی ہے جس میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور دیگر حکومتی عہدیداروں کے علاوہ اب صدر مملکت پر بھی انتخابی حلقوں کا دورہ کرنے پر پابندی ہوگی۔سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے ووٹ ڈالنے کی شرط لازمی قرار دینے، بیلٹ پیپر میں خالی خانہ رکھنے اور رن آف الیکشن کا نظام رائج کرنے کیلیے وزارت قانون کو ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس ضمن میں پارلیمنٹ قانون سازی کر ے۔



اجلاس میں کراچی میں ووٹروں کی گھر گھر دوبارہ تصدیق کے عمل کا جائزہ لیا گیا اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ10 مارچ تک تصدیق کاعمل مکمل کرلیا جائیگاجبکہ شہر میں ووٹر فہرستوں کے 200 ڈسپلے سینٹر ختم کر دیے گئے ہیں۔ کمیشن نے بھرتیوں پرعائد پابندی کے خلاف حکومتی حلقوں کی جانب سے ہونے والی تنقید مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیاکہ کمیشن آئین کے آرٹیکل218 کے تحت پابندی لگانے کیلیے مکمل طور پر با اختیار ہے۔ اجلاس میں11 نئی سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کی منظوری دی گئی،جس کے ساتھ رجسٹرڈسیاسی جماعتوں کی تعداد 227 ہو گئی ہے۔

کمیشن نے16 جماعتوں کو انتخابی نشانات بھی الاٹ کر دیے، ڈاکٹر عبدالقدیر کی تحریک تحفظ پاکستان کو میزائل کا انتخابی نشان دے دیا گیا۔الیکشن کمیشن کے اجلاس میں طاہرالقادری اور حکومت کے معاہدے پر بھی غور کیا گیا تاہم کمیشن نے فیصلہ کیا کہ آج (جمعرات) حکومتی مذاکراتی ٹیم کامؤقف سناجائے گا۔ اجلاس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی الیکشن کمیشن شیرافگن نے میڈیا کو بتایا کہ دہری شہریت رکھنے والے ارکان جنھوں نے استعفے دیے ہیں ان کی تفصیلات الیکشن کمیشن فراہم کردی گئی ہیں۔ 16 ارکان مستعفی ہوئے ہیں ، 50 فیصد سے کم ووٹ لینے والے امیدواروں کے حلقوں میں پہلے دوامیدواروں کے درمیان دوبارہ انتخابات کی تجویزکو وزارت قانون کوبھیجنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

جماعت اسلامی، جے یو آئی ف اور اے این پی سمیت 10 جماعتوں نے اپنے پارٹی انتخابات کی تفصیلات بھی الیکشن کمیشن کو فراہم کر دی ہیں۔ دریں اثناالیکشن کمیشن پنجاب کے ترجمان نے اے پی پی کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے زیراہتمام عام انتخابات میں88 فیصد ٹرن آئوٹ حاصل کرنے کیلیے عالمی اداروں کے تعاون سے پولنگ اسٹاف کی جدید خطوط پر تربیت کیلیے صوبائی اور ضلعی سطح پر''ووٹرز ایجوکیشن ٹریننگ'' شروع ہو گئی ہے۔ لاہور میں تربیتی پروگرام (آج) جمعرات سے شروع ہو رہے ہیں جو25 جنوری تک جاری رہیں گے۔