فوج عدلیہ سیاسی قوتیں جمہوریت پر متفق ہیں وزیراعظم

انقلاب 5، 10 سال میں نہیں آتا،ہر ادارہ اپنے دائرے میں کام کرے تو اسی میں سب کی عزت ہے


Numainda Express January 30, 2013
ہم نے برداشت کا کلچر متعارف کرایا،بھارت سے مذاکرات میں پیشرفت کے منتظر ہیں،خطاب، پیپلزپارٹی پنجاب نے صوبہ کمیشن کی سفارشات کی حمایت کر دی۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ فوج، عدلیہ اور سیاسی قوتیں متفق ہو چکی ہیں کہ ملک میں جمہوریت کے سوا اب کوئی نظام نہیں چل سکتا۔

ماضی میں شب خون مارنے سے ملک کمزورہوا تاہم اب تمام ادارے جمہوریت پر متفق ہیں۔ انقلاب ایک، انقلاب 5، 10 سال میں نہیں آتا، کئی سال لگتے ہیں۔ منگل کو وزیراعظم سیکریٹریٹ اسلام آباد میں گوجرخان بار ایسوسی ایشن کے نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سب کی ایک ہی سوچ ہے کہ ملک میں جمہوریت ہونی چاہیے۔

پاکستان میں بھی انقلاب آ رہا ہے تاہم یہ ابھی ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے، مفاہمت کی پالیسی کے باعث جمہوری حکومت پہلی بار 5 سال مکمل کر رہی ہے، چند ہفتوں میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ تقریب میں وزیراعظم سے سوال کیاگیاکہ آئین کے تحت تمام ادارے مضبوط اور پارلیمنٹ کمزور ہوگئی ہے،کیا یہ جمہوریت کی مضبوطی ہے؟ اس پر وزیراعظم نے کہاکہ وہ پھر کہتے ہیں کہ ہرادارہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرے، اسی میں سب کی عزت اورملک کی بہتری ہے۔ انھوں نے کہا کہ چند ہفتوں بعد ایک بار پھر عوامی عدالت میں جائیں گے، عوام جس کو موقع دیں، حکومت کرنا اس کا حق ہے۔ آئین کی بالادستی کیلیے وکلا کی قربانیاں فراموش نہیں کی جا سکتیں۔

2

حکومت کی 5سالہ مدت کی تکمیل سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے، تمام اسٹیک ہولڈڑز نے جمہوری نظام کی مکمل حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ راجا پرویز اشرف نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملکی سیاست میں تحمل اور برداشت کا کلچر متعارف کرایا اور جمہوریت کو مستحکم کیا۔ انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن کو تحلیل کیے جانے کا اقدام غیر آئینی ہو گا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر گوجر خان بار کیلیے چیمبرز اور ہائوسنگ سوسائٹی کے قیام کا علان کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم سے وفاقی وزیر پروفیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ شیخ وقاص اکرم نے ملاقات کی۔

آزاد کشمیر کے صدر سردار یعقوب، وزیراعظم عبدالمجید اور بیرسٹر سلطان محمود سے ملاقات میں پرویز اشرف نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت دیگر دیرینہ تنازعات پر بھارت کے ساتھ جاری جامع مذاکرات میں پیش رفت کا منتظر ہے، پاکستان کشمیر کے تنازع کا پرامن حل چاہتا ہے۔ کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی، سیاسی حمایت جاری رکھی جائیگی، اس بار بھی 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر قومی سطح پر بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ او آئی سی سربراہ کانفرنس اور کشمیر رابطہ گروپ کے اجلاسوں میں مسئلہ کشمیر جراتمندانہ انداز میں اجاگر کیا جائیگا۔

وزیراعظم کی صدارت میں پیپلزپارٹی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کااجلاس بھی ہوا،پارلیمانی پارٹی نے پنجاب میں نئے مجوزہ صوبہ بہاولپور جنوبی پنجاب کے قیام کے بارے میں پارلیمانی کمیشن کی سفارشات کی حمایت کردی اور پارٹی قیادت پر آئینی ترمیم میں جلد پیشرفت کو ممکن بنانے پر زور دیا ۔ وزیراعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ملک و قوم کے لیے اپنی وسیع تر پالیسیوں کیوجہ سے پیپلز پارٹی دوبارہ برسراقتدار آئے گی۔